ایران۔امریکہ کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر، اقوام متحدہ کا فوری سفارت کاری پر زور
نیویارک (خصوصی رپورٹ: ماہین فاروق)
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر عسکری تصادم شروع ہوا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، بین الاقوامی تجارت، توانائی کی فراہمی اور عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوگی۔ کونسل کے اجلاس میں مختلف ممالک نے ایران، امریکہ اور خطے کی تازہ صورتحال پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے، جبکہ اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔
اقوام متحدہ کی تشویش
امورِ امن سازی کے لیے اقوام متحدہ کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل الزبتھ سپیہر نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں ہر نیا حملہ، ہر جوابی کارروائی اور سمندر میں پیش آنے والا ہر واقعہ کسی بڑے علاقائی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 جون کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز پر ایران کے ڈرون حملے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ الزبتھ سپیہر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی، رہائشی علاقوں، بندرگاہوں، توانائی کی تنصیبات، تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ان کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
کشیدگی میں کمی کی کوششوں کا خیرمقدم
انہوں نے امریکہ اور ایران کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت امید کی نئی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے جاری سفارتی رابطے حوصلہ افزا ہیں۔ الزبتھ سپیہر نے کہا کہ قطر، پاکستان، عمان اور دیگر ممالک کی سفارتی کاوشیں اس امر کی غماز ہیں کہ بحران کا واحد پائیدار حل مذاکرات، اعتماد سازی اور مسلسل سفارت کاری میں مضمر ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو جنگ بندی یا سفارتی عمل کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
بحرین کا ایران کے خلاف سخت مؤقف
سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بحرین کی درخواست پر طلب کیا گیا، جس میں بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد الزیانی نے ایران پر اپنی سرزمین پر مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے سلامتی کونسل سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے بحرین پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں میں شہری آبادی، رہائشی علاقوں، صنعتی مراکز اور پانی صاف کرنے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ حملے 17 جون کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی ہیں، جس میں فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ بحرین نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ ایران کو فوری طور پر حملے روکنے کا پابند بنایا جائے اور متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار قرار دے دیا
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل سفیر امیر سعید ایروانی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ کشیدگی کی مکمل ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی، بحری آمدورفت، راستوں کو کھلا رکھنے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کی ذمہ داری ایران نبھا رہا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بیرونی مداخلت نے عدم استحکام کو مزید بڑھایا ہے۔
روس کا سفارتی حل پر زور
روس کی نائب مستقل سفیر اینا یاستاگنئیوا نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں ہیں۔ ان کے مطابق طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری ہی بحران کا واحد مؤثر حل ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کو موجودہ حالات میں ناگزیر قرار دیا۔
امریکہ کا ایران پر عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کا الزام
اقوام متحدہ میں امریکہ کے مستقل سفیر مائیک والٹز نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے دانستہ طور پر خلیجی ممالک اور عالمی تجارتی راستوں کو نشانہ بنایا تاکہ دنیا پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران واقعی دفاع کرنا چاہتا تھا تو وہ دیگر اہداف کا انتخاب کر سکتا تھا، لیکن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کر کے اس نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈال دیا۔ ان کے مطابق اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ درجنوں ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کو عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
چین کی تحمل اور مذاکرات کی اپیل
چین کے مستقل سفیر فو کانگ نے تمام متعلقہ ممالک پر زور دیا کہ وہ اشتعال انگیز بیانات اور عسکری کارروائیوں سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت جلد بحال ہونی چاہیے اور مشرقِ وسطیٰ کو بڑی طاقتوں کی جغرافیائی سیاسی کشمکش کا میدان نہیں بننے دینا چاہیے۔
پاکستان نے سفارت کاری کو کامیابی قرار دے دیا
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سفارت کاری کی ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور قطر نے حال ہی میں دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں فریقین نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کا واحد دیرپا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، باہمی اعتماد اور سفارتی روابط میں پوشیدہ ہے۔
عالمی برادری کی نظریں سفارت کاری پر
سلامتی کونسل کے اجلاس میں برطانیہ، یونان، کویت اور پانامہ کے نمائندوں نے بھی خطاب کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، عالمی بحری تجارت کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کی۔ عالمی برادری کی نظریں اب امریکہ اور ایران کے آئندہ مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی مذاکرات کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں امن یا مزید کشیدگی کا فیصلہ ہو سکتا ہے

