واشنگٹن میں پاکستان کی سفارت کاری پر سوالات، ماہرین نے مؤثر خارجہ حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا
ڈاکٹر غلام مجتبی کے مطابق صرف علامتی سفارت کاری کے بجائے قومی مفادات کے حصول پر توجہ ناگزیر ہے
مصنف نے خارجہ پالیسی میں پیشہ ور اور تجربہ کار سفارت کاروں کو ذمہ داریاں سونپنے کی ضرورت پر زور دیا
(واشنگٹن (خصوصی رپورٹ منظور حسین
پاکستان کی خارجہ پالیسی، واشنگٹن میں حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور امریکی دارالحکومت میں منعقدہ “مینگو فیسٹیول” کے تناظر میں ماہرین نے مؤثر اور نتیجہ خیز سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیت، عالمی امور کی گہری سمجھ بوجھ اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ معروف تجزیہ نگار منظور حسین کی تحریر میں پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ امریکہ (پی پی آئی-یو ایس اے ) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبی کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو واشنگٹن میں سفارتی سرگرمیوں، اعلیٰ سطحی دوروں اور لابنگ پر ہونے والے اخراجات کے بدلے عملی اور ٹھوس نتائج حاصل ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق سفارت کاری کا اصل معیار میڈیا میں تشہیر یا رسمی تقریبات نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس، پینٹاگون، امریکی محکمہ خارجہ اور کانگریس کے اہم فیصلہ سازوں تک مؤثر رسائی اور پاکستان کے لیے اقتصادی، دفاعی اور اسٹریٹجک فوائد کا حصول ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خارجہ پالیسی کسی بھی ریاست کی سلامتی، ترقی اور بین الاقوامی وقار کی بنیاد ہوتی ہے، اس لیے اس حساس شعبے کی ذمہ داریاں صرف انہی افراد کو سونپی جانی چاہییں جو بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری اور جغرافیائی سیاست کے تقاضوں سے مکمل آگاہ ہوں۔ مصنف نے مؤقف اختیار کیا کہ سفارت کاری محض رسمی ملاقاتوں یا علامتی سرگرمیوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں مہارت، تجربہ اور دور اندیشی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ تحریر میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر کسی بحری جہاز کا کپتان تبدیل کرکے اس کی جگہ کسی اکاؤنٹنٹ یا منتظم کو بٹھا دیا جائے تو وہ انتظامی امور تو سنبھال سکتا ہے، لیکن سمندری طوفان میں جہاز کو محفوظ منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ اسی مثال کو موجودہ سفارتی صورتحال پر منطبق کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کو بھی خارجہ امور میں پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر غلام مجتبی کے حوالے سے کہا گیا کہ پاکستان میں باصلاحیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والی شخصیات موجود ہیں، تاہم انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں مناسب کردار نہیں دیا جا رہا۔ ان کے مطابق ریاست کو ذاتی پسند و ناپسند اور گروہی سیاست سے بالاتر ہو کر میرٹ کی بنیاد پر ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہییں تاکہ قومی وسائل کا مؤثر استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں ملکی سلامتی اور خارجہ محاذ پر عسکری قیادت کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے مختلف ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک اور معاشی روابط کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، تاہم مستقل بنیادوں پر خارجہ پالیسی کی کامیابی کے لیے ایک مضبوط، تجربہ کار اور پیشہ ور سول سفارتی ٹیم کی تشکیل بھی ناگزیر ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کر سکے اور قومی مفادات کے حصول میں معاون ثابت ہو۔ رپورٹ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو وقتی تشہیری سرگرمیوں کے بجائے طویل المدتی قومی مفادات، معاشی ترقی، بین الاقوامی تعلقات کے استحکام اور پیشہ ورانہ سفارت کاری کے اصولوں کے مطابق استوار کیا جانا چاہیے تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار حقیقی کارکردگی اور مؤثر سفارتی کامیابیوں سے مزید مضبوط ہو۔

