Stand with Justice, Freedom, Democracy, Peace and Prosperity !
تحریر: حلیم خان
نیویارک : سینیٹر مشتاق احمد، محمود خان اچکزئی، شاہد خاقان عباسی، سینیٹر نواز کھوکھر، حافظ نعیم الرحمٰن، مولانا فضل الرحمٰن، جاوید ہاشمی، حامد میر، اقرار الحق، تابش ہاشمی، اور ہزاروں دیگر باشعور اور انصاف پسند پاکستانیوں کا شکریہ، جنہوں نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق آزاد کشمیر میں جاری قتل و غارت گری کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی۔ انصاف اور حق کی بات کرنے کی پاداش میں بہت سے افراد کو گرفتاریوں، تشدد (ٹارچر) اور روزگار سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام حق پرستوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔ یاد رکھیں، قتل و غارت گری اور ظلم کو برداشت کرنا یا اس پر آنکھیں بند کر لینا، شریکِ جرم ہونے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ آج کروڑوں پاکستانی سوشل میڈیا پر آزاد کشمیر کے باشندوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے مناظر دیکھنے کے باوجود خاموش ہیں۔ کیا یہ بے حسی بھی شریکِ جرم ہونے کے مترادف نہیں؟
مِٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟
منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے؟















