امریکہ کی 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات: یوٹا میں جموں کشمیر کمیونٹی کے وفد کی امریکی قانون سازوں سے ملاقات، مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق پر بریفنگ
سالٹ لیک سٹی (یوٹا) (رپورٹ: سردار انور، امریکی ریاست یوٹا)
امریکی ریاست یوٹا کے دارالحکومت سالٹ لیک سٹی میں امریکہ کی 250ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر جموں کشمیر کمیونٹی یوٹا کے ایک وفد نے مختلف سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر، بنیادی انسانی حقوق اور معاشی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔ وفد نے اس موقع پر امریکی سینیٹر جان کرٹس، کانگریس مین سیلسٹ مالائے بلیک مور، ، کانگریس مین برگیس اوونز اٹارنی جنرل ڈیرک براؤن مقامی حکام اور متعدد کاروباری، سماجی اور سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ وفد کی جانب سے شرکاء کو مسئلہ جموں و کشمیر کے تاریخی پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے یہ مؤقف پیش کیا گیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں گزشتہ تقریباً تین برس سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں بنیادی انسانی حقوق، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے مطالبات کے لیے پرامن تحریک جاری ہے۔ وفد کے مطابق، اس تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال، مبینہ گرفتاریوں، تشدد، جبری گمشدگیوں، مواصلاتی بندشوں، خوراک اور ادویات کی فراہمی میں رکاوٹوں سمیت متعدد انسانی حقوق کے مسائل سامنے آئے ہیں۔ وفد نے امریکی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ ان دعووں کا نوٹس لیتے ہوئے کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور خطے میں امن و انصاف کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ وفد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن، منصفانہ اور عوامی خواہشات کے مطابق حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ دریں اثنا، جموں کشمیر کمیونٹی یوٹا کے وفد نے ریاست یوٹا کی ممتاز کاروباری شخصیات اور معاشی ماہرین سے “جموں کشمیر چیمبر آف کامرس، یوٹا” کے قیام کے حوالے سے بھی مشاورت کی۔ وفد کا کہنا تھا کہ اس ادارے کے قیام کا مقصد امریکہ اور جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تاجروں، سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا اور معاشی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر کاروباری مشیر جوناتھن اور تجزیہ کار و رابطہ کار مارٹن نے مجوزہ چیمبر کے قیام کے لیے تکنیکی معاونت، مشاورت اور رہنمائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وفد کے ارکان نے اس پیش رفت کو دونوں خطوں کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ وفد کے مطابق، آئندہ بھی امریکی حکومتی نمائندوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ مسئلہ کشمیر، انسانی حقوق اور معاشی ترقی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔








