آزاد کشمیر کی صورتحال پر آواز بلند کرنے کی اپیل، جمہوری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
تحریر: ایم حلیم خان
نیویارک، 29 جولائی 2026
ممتاز سماجی و سیاسی مبصر ایم حلیم خان نے آزاد کشمیر میں جاری عوامی احتجاج، انسانی حقوق کی صورتحال اور جمہوری مطالبات کے حوالے سے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ انصاف، آزادی، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کے حق میں پرامن اور آئینی انداز میں اپنی آواز بلند کریں۔ اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے عوام گزشتہ تقریباً 55 روز سے کھلے آسمان تلے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مظاہرین شدید موسمی حالات اور سکیورٹی محاصرے کے باوجود اپنے ان مطالبات پر عمل درآمد چاہتے ہیں جنہیں ان کے بقول حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے میں تسلیم کیا گیا تھا۔ ایم حلیم خان نے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین کا کہنا ہے کہ متعلقہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا، جبکہ ان کے مطابق ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک، زخمی، گرفتار یا لاپتہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنی تحریر میں کہا کہ اگر عوام کے جائز اور آئینی مطالبات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا جائے تو اس سے نہ صرف عوامی بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اختلافات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایم حلیم خان نے اس موقع پر مختلف سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، وکلاء، دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے آزاد کشمیر کی صورتحال پر آواز اٹھانے کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو انسانی جانوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک میں جمہوری اقدار، آئینی بالادستی، بنیادی شہری حقوق اور انصاف کے فروغ کے لیے پرامن، قانونی اور جمہوری طریقے سے اپنا کردار ادا کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک ایسا معاشرہ مل سکے جہاں قانون کی حکمرانی، انسانی وقار، امن اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے۔ اپنی تحریر کے اختتام پر ایم حلیم خان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انصاف، آزادی، جمہوریت، امن اور خوشحالی کے لیے اجتماعی کوششیں ہی ایک مضبوط، مستحکم اور پرامن معاشرے کی بنیاد بن سکتی ہیں، اور تمام متعلقہ فریقین کو چاہیے کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمے، برداشت اور آئینی راستے کو اختیار کریں۔

