ایران سے پرامن تعلقات برقرار رکھتے ہوئے سعودی عرب، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونا پاکستان کی مجبوری بن سکتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ

ایران تنازع، پاکستان اور امریکہ۔ سعودی عرب کی جانب پاکستان کا ناگزیر اسٹریٹجک جھکاؤ؟

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ
چیئرمین، پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ یو ایس اے و جیوپولیٹیکل تجزیہ کار

ایران میں جاری کشیدگی مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے تزویراتی منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں سب سے اہم اور مشکل فیصلہ پاکستان کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔

ابتدائی طور پر اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک سفارتی پل اور ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، اور یہ کردار آج بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ پاکستان زیادہ عرصہ تک ایران اور دوسری جانب امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے درمیان مکمل غیر جانبداری برقرار نہیں رکھ سکے گا۔

پاکستان کی ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد ہے، اس لیے تہران کے ساتھ پرامن اور خوشگوار تعلقات پاکستان کی ضرورت ہیں۔ تاہم دفاعی شراکت داری، اقتصادی مفادات، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بڑی تعداد اور امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات کو سعودی عرب، خلیجی ممالک اور امریکہ کے زیادہ قریب لے جاتے ہیں۔

اب سوال صرف یہ نہیں رہا کہ آیا پاکستان ایران تنازع میں ثالثی کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو کیا پاکستان ثالث سے ایک باقاعدہ اسٹریٹجک اتحادی کے کردار میں منتقل ہونے پر مجبور ہو جائے گا؟

سعودی عرب: ایسا تعلق جسے پاکستان نظر انداز نہیں کر سکتا

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط مضبوط اسٹریٹجک، دفاعی اور معاشی شراکت داری پر مبنی ہیں۔

سعودی عرب نے مختلف ادوار میں مالی امداد، زرمبادلہ کے ذخائر، تیل کی سہولتوں اور سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی طویل تاریخ رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کیے ہوئے ہیں، جن کی بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اسی لیے سعودی عرب اور خلیجی خطے کا امن پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام سے براہِ راست وابستہ معاملہ ہے۔

اگر سعودی عرب کی سرزمین، شہری مراکز یا اہم تنصیبات پر حوثی باغیوں یا ایران کی حمایت یافتہ دیگر گروہوں کے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھے، لیکن ایک ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات اور اپنے دیرینہ اتحادی کے دفاع میں کھڑے ہونے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔

ایسی صورتحال میں سعودی عرب کی جانب پاکستان کا جھکاؤ ایران دشمنی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفادات اور دفاعی ذمہ داریوں کا تقاضا ہوگا۔

امریکہ کا کردار

اس تزویراتی مساوات میں امریکہ بھی ایک انتہائی اہم عنصر ہے۔

اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مختلف اوقات میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے، لیکن دونوں ممالک کئی دہائیوں سے دفاع، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس تعاون، علاقائی استحکام اور اقتصادی شعبوں میں قریبی شراکت دار رہے ہیں۔

واشنگٹن کے ساتھ مضبوط تعلقات پاکستان کو سفارتی اثرورسوخ، عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی، دفاعی تعاون اور عالمی سیاست میں بہتر مقام فراہم کر سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی جارحانہ جنگ میں شریک ہو۔

بلکہ پاکستان ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے تہران کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھ سکتا ہے جبکہ امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر علاقائی استحکام، توانائی کے انفراسٹرکچر، بین الاقوامی بحری راستوں اور اتحادی ممالک کے دفاع میں تعاون کر سکتا ہے۔

مصنف کے مطابق ایران کو بھی یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ اگر اس کی حمایت یافتہ تنظیمیں سعودی عرب یا اہم بحری راستوں کو نشانہ بناتی رہیں تو ایسے ممالک بھی، جو غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں، رفتہ رفتہ مخالف اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں، اور پاکستان بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے۔

بلوچستان سب سے حساس محاذ

پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ اس کی مغربی سرحد پر موجود بلوچستان کا خطہ ہے۔

پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد پہلے ہی عسکریت پسندی، علیحدگی پسند تنظیموں، اسمگلنگ اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے باعث حساس سمجھی جاتی ہے۔

اگرچہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملہ جغرافیائی اعتبار سے بلوچستان پر حملہ تصور نہیں ہوگا، تاہم اگر پاکستان سعودی عرب کے دفاع میں عملی کردار ادا کرتا ہے تو اس کے اثرات ایران۔پاکستان سرحد پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔

مصنف کے مطابق ممکنہ صورتحال کچھ یوں ہو سکتی ہے:

حوثیوں کے حملے → سعودی فوجی ردعمل → پاکستان کی دفاعی ذمہ داریوں کا فعال ہونا → ایران کا دباؤ → پراکسی سرگرمیوں میں اضافہ → بلوچستان میں بدامنی → ایران اور پاکستان کے درمیان ممکنہ عسکری کشیدگی۔

مصنف واضح کرتے ہیں کہ یہ کوئی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک ممکنہ منظرنامہ ہے، تاہم سعودی عرب میں پاکستانی فوجی اہلکاروں اور فضائی وسائل کی موجودگی کے باعث اس امکان کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اگر سعودی عرب میں تعینات پاکستانی افواج پر ایران یا ایران نواز گروہوں کی جانب سے حملہ ہوتا ہے تو پاکستان پر بھرپور ردعمل دینے کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ بڑھ سکتا ہے، اور ایسی صورت میں ثالثی کا کردار برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان کو اپنی پالیسی واضح کرنی ہوگی

مصنف کے مطابق پاکستان کو غیر واضح غیر جانبداری کے بجائے واضح اسٹریٹجک سفارت کاری اختیار کرنی چاہیے۔

اسلام آباد کو تہران پر واضح کرنا چاہیے کہ پاکستان ایران کے ساتھ پرامن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، تاہم اگر سعودی عرب یا دیگر خلیجی اتحادیوں پر مسلسل حملے ہوتے ہیں، خصوصاً ایسے حالات میں جب پاکستانی افواج یا لاکھوں پاکستانی شہری متاثر ہو سکتے ہوں، تو پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

اسی کے ساتھ پاکستان کو واشنگٹن اور ریاض کے ساتھ مشاورت بھی بڑھانی چاہیے اور واضح کرنا چاہیے کہ اس کی تمام دفاعی ذمہ داریاں صرف دفاعی نوعیت کی ہیں۔

پاکستان کا پیغام واضح ہونا چاہیے:

“پاکستان ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، پاکستان سفارت کاری کا حامی ہے، لیکن وہ اپنے قومی مفادات، اتحادیوں کے تحفظ اور دفاعی ذمہ داریوں سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔”

ایک تاریخی موڑ

مصنف کے مطابق ایران اور پاکستان کے درمیان براہِ راست جنگ کا امکان فی الحال کم ہے کیونکہ دونوں ممالک اس سے نقصان اٹھائیں گے۔

تاہم تاریخ گواہ ہے کہ کئی جنگیں براہِ راست فیصلوں کے بجائے اتحادیوں، پراکسی گروہوں اور جوابی کارروائیوں کے سلسلے سے جنم لیتی ہیں۔

اسی لیے پاکستان اس وقت ایک اہم تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔

جغرافیہ پاکستان کو ایران کے ساتھ امن برقرار رکھنے پر مجبور کرتا ہے، جبکہ اس کے معاشی مفادات، دفاعی تعلقات، خلیجی ممالک میں پاکستانی افرادی قوت اور عالمی سفارتی سمت اسے سعودی عرب، خلیجی ممالک اور امریکہ کے قریب لے جا رہی ہے۔

اگر پاکستان کو غیر جانبداری اور سعودی عرب کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قومی سلامتی، اقتصادی مفادات اور دفاعی ذمہ داریوں کے پیش نظر اس کا جھکاؤ سعودی عرب کی جانب ہونا ایک فطری امر ہوگا۔

مصنف کے مطابق پاکستان کا اصل ہدف یہی ہونا چاہیے کہ ایران کے ساتھ امن برقرار رہے، لیکن یہ امن سعودی عرب کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری، خلیجی ممالک کی سلامتی اور امریکہ کے ساتھ طویل المدتی تعلقات کی قیمت پر نہ ہو۔

آخر میں پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ لکھتے ہیں کہ آنے والے چند ماہ یہ طے کریں گے کہ آیا پاکستان اس نازک توازن کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے یا نہیں۔ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو ممکن ہے کہ پاکستان کی اسٹریٹجک غیر جانبداری کا دور اختتام پذیر ہو جائے۔ پاکستان ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھتے ہوئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے، لیکن اگر یہ توازن ٹوٹ گیا تو قومی مفادات کا تقاضا یہی ہوگا کہ اسلام آباد کا اسٹریٹجک وزن ریاض، خلیجی تعاون کونسل اور واشنگٹن کی جانب مزید منتقل ہو جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *