سٹیو چان کا نیویارک سٹی پرائمری انتخابی نتائج پر سخت ردِعمل
زوہران ممدانی کی کامیابی کو ڈیموکریٹک پارٹی میں بڑی نظریاتی تبدیلی قرار، ووٹرز سے عام انتخابات میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کی اپیل
(بروکلین، نیویارک: (منظور حسین
نیویارک اسٹیٹ سینیٹر سٹیو چان نے نیویارک سٹی کے حالیہ پرائمری انتخابات کے نتائج پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ یہ نتائج ریاست کی سیاست میں ایک اہم اور تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہڈیموکریٹک پارٹی اپنی روایتی سیاسی شناخت سے دور ہوتی جا رہی ہے اور اس کے اندر سوشلسٹ نظریات کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔بدھ کے روز جاری ہونے والے اپنے باضابطہ بیان میں سینیٹر سٹیو چان نے کہا کہ نیویارک سٹی کے پرائمری انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز ایک نئی ڈیموکریٹک سیاسی سوچ کو قبول کر رہے ہیں، جو ان کے بقول سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور باراک اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی سے مختلف ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ پارٹی پر ایسے عناصر کا غلبہ بڑھ رہا ہے جو سوشلسٹ نظریات کی نمائندگی کرتے ہیں۔سٹیو چان نے کہا کہ حالیہ پرائمری انتخابات میں زوہران ممدانی کی کامیابی اس تبدیلی کا سب سے نمایاں ثبوت ہے۔ ان کے مطابق یہ نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ حلقے اب پارٹی کے اندر زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال پر نہ صرف ریاستی قیادت بلکہ عام شہریوں کو بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
ریپبلکن سینیٹر نے اپنے بیان میں نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی رجحانات ریاستی قیادت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ عام انتخابات میں سیاسی منظرنامہ مزید تبدیل ہو سکتا ہے۔سٹیو چان نے کہا کہ ریپبلکن پارٹی ریاست میں مختلف طرزِ فکر کی نمائندگی کرتی ہے اور اس کی ترجیحات میں عوام کو معاشی ریلیف، محفوظ ماحول اور نیویارک میں رہنے کے بہتر مواقع فراہم کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریپبلکن پالیسیوں کا مقصد عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو آسان بنانا اور بڑھتی ہوئی مہنگائی و عوامی تحفظ کے مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔اپنے بیان کے اختتام پر سینیٹر سٹیو چان نے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں ووٹ ڈالتے وقت تمام سیاسی حقائق اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھیں اور ایسا فیصلہ کریں جو ریاست اور شہر کے مستقبل کے لیے بہتر ثابت ہو۔سیاسی مبصرین کے مطابق نیویارک سٹی کے پرائمری انتخابات کے نتائج نے شہر اور ریاست کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما ان نتائج کو اپنے اپنے نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں عام انتخابات کی مہم کے دوران یہ موضوع نیویارک کی سیاست کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔

