ڈاکٹر غلام مجتبیٰ کی امریکی۔پاکستانی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک دہائی سے زائد خدمات

پالیسی ڈائیلاگ، پارلیمانی روابط اور سفارتی کوششوں کے ذریعے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر زور

واشنگٹن : (منظور حسین سے )

پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ یو ایس اے (پی پی آئی / یو ایس اے کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ

MS, MD, Ed.D., FRSPH, FICPS

گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہتر تفہیم، تعمیری روابط اور دیرپا تعاون کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے پالیسی فورمز، بین الپارلیمانی مکالموں، علمی تبادلوں اور سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلقات کو باہمی احترام، علاقائی استحکام اور عوامی روابط کی بنیاد پر مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی رہنماؤں کی جانب سے چودہ سال کے وقفے سے دیے گئے دو اہم عوامی بیانات اس جاری سفارتی اور پالیسی سرگرمی کی عکاسی کرتے ہیں۔

2012اسلام آباد میں اے ایف پاک کانفرنس

سن 2012 میں اسلام آباد میں ڈاکٹر غلام مجتبیٰ کی زیر قیادت منعقد ہونے والی اے ایف پاک کانفرنس میں دنیا کے اہم ممالک کے تین درجن سے زائد سفیروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران معروف امریکی سفارت کار اور مخیر شخصیت جوآن ہیرنگ نے ہیوسٹن، ٹیکساس سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مجتبیٰ کی قیادت کو سراہا۔ “میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے پاس ڈاکٹر غلام مجتبیٰ جیسے لوگ موجود ہیں، جو ایک عظیم رہنما ہیں اور آپ کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ہماری معیشت میں بھی کامیابی حاصل کی اور آپ کی معیشت میں بھی، اور وہ اپنا تجربہ آپ تک منتقل کر سکتے ہیں۔ ہر چیز کتابوں سے نہیں سیکھی جا سکتی۔ میں آپ کے مستقبل اور آپ کی کامیابیوں کے بارے میں جاننے کی خواہش رکھتی ہوں۔ خدا آپ سب کو کامیاب کرے۔”

2026: کیپیٹل ہل میں بین الپارلیمانی ڈائیلاگ

چودہ برس بعد، جنوری 2026 میں، واشنگٹن ڈی سی کے رے برن ہاؤس آفس بلڈنگ میں ڈاکٹر غلام مجتبیٰ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے انٹر پارلیمنٹری گروپ (IPG) ڈائیلاگ میں امریکی کانگریس کے رکن رون ایسٹس نے پاکستانی پارلیمانی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: “میں ڈاکٹر مجتبیٰ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس اہم مکالمے کے انعقاد اور انٹر پارلیمنٹری گروپ کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میں وفد کے تمام اراکین کا بھی شکر گزار ہوں کہ وہ اتنا طویل سفر طے کر کے یہاں آئے۔ ہم اپنے اپنے ممالک کے نمائندوں کی حیثیت سے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ جمع ہوئے ہیں تاکہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط اور گہرا کیا جا سکے۔”

مسلسل سفارتی اور پارلیمانی رابطوں کی اہمیت

ماہرین کے مطابق چودہ سال کے وقفے سے سامنے آنے والے یہ دونوں بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکی پالیسی ساز اور عوامی شخصیات امریکہ اور پاکستان کے درمیان مستقل مکالمے، پارلیمانی سفارت کاری اور تعمیری روابط کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔ یہ بیانات ڈاکٹر غلام مجتبیٰ اور (پی پی آئی / یو ایس اے) کی ان مسلسل کوششوں کی بھی عکاسی کرتے ہیں جن کے ذریعے وہ سفارت کاری، پالیسی مکالمے اور علمی تبادلوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، رابطے اور طویل المدتی اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *