نیویارک: جموں و کشمیر کمیونٹی کے زیر اہتمام “شہدائے عوامی حقوق کانفرنس” کا انعقاد، مشترکہ اعلامیہ جاری
نیویارک (خصوصی رپورٹ) — امریکہ میں مقیم جموں و کشمیر کمیونٹی کے زیر اہتمام نیویارک میں “شہدائے عوامی حقوق کانفرنس” کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف ریاستی، سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنان نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی حالیہ صورتحال، عوامی حقوق کی تحریک اور مبینہ ریاستی کارروائیوں کے حوالے سے متعدد مطالبات پیش کیے گئے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان کی حکومت فوری طور پر پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے ایف سی (فرنٹیئر کور) اور پی سی سمیت دیگر فورسز کو واپس بلائے اور خطے میں عسکری موجودگی کم کی جائے۔ شرکاء نے مؤقف اختیار کیا کہ عوامی حقوق کے لیے جان قربان کرنے والے افراد کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کیے جائیں اور لاشوں کی مبینہ بے حرمتی پر متعلقہ حکام متاثرہ خاندانوں اور کشمیری قوم سے معافی مانگیں۔

کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ عوامی حقوق کے شہداء کے واقعات کے ذمہ دار قرار دیے جانے والے سرکاری و غیر سرکاری عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ اعلامیے میں چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، نام نہاد وزیر اعظم فیصل راٹھور، قائم مقام صدر لطیف اکبر اور دیگر متعلقہ اداروں کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ شرکاء نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ اور تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے تاکہ عوامی مسائل کا پائیدار حل ممکن بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ اگر کشمیری عوام کے خلاف مبینہ ظلم، جبر، بربریت اور شہریوں کے قتل کا سلسلہ بند نہ ہوا تو امریکہ، یورپ، برطانیہ اور کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانوں، اقوام متحدہ کے دفاتر اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے سامنے غیر معینہ مدت کے دھرنے اور بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جائیں گے۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کے عوام، بالخصوص مزدوروں، کسانوں، دانشوروں، صحافیوں، وکلاء، طلبہ اور ٹریڈ یونینز سے اپیل کی گئی کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ اور مبینہ قتل و غارت روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ بیرون ملک مقیم کشمیری اور ریاستی باشندے محنت کش عوامی حقوق کیتحریک کے پشتی بان ہیں اور اپنی قوم کے سفیر کے طور پر دنیا بھر میں کشمیری عوام کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اعلامیے کے اختتام پر اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیری عوام پر ہونے والے مبینہ ظلم و ستم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قتل و غارت کے واقعات کا نوٹس لیں اور فوری اقدامات کے ذریعے خطے میں امن، انصاف اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ کانفرنس کے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کے سیاسی، معاشی اور انسانی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو مزید مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے گا۔


