اقوام متحدہ آزاد کشمیر میں تشدد’ریاستی غنڈہ گردی اور قتل وغارت رکوائےجموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی اقوام متحدہ سے فوری مداخلت کی اپیل
نیویارک (خصوصی رپورٹ): جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) شمالی امریکہ کے رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے آزاد جموں و کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ جے کے ایل ایف کے صدر سردار امتیاز، سپریم کونسل کے رکن ایم حلیم خان اور جنرلسیکریٹری شفیق اشرف کی جانب سے اقوام متحدہ کو ارسال کردہ خط میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) پر پابندی اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ خط کے مطابق جے کے جے اے اے سی ایک پرامن عوامی پلیٹ فارم ہے جو مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کر رہا تھا۔ جے کے ایل ایف کا دعویٰ ہے کہ سرکاری فورسز نے نہتے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مظاہر شازیب خان جاں بحق جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما عمر نذیر شدید زخمی ہوگئے اور ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جے کے ایل ایف نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جے کے جے اے اے سی پر پابندی، مظاہرین کی ہلاکت اور زخمی کیے جانے کے واقعات بنیادی انسانی حقوق، پرامن احتجاج اور اجتماع کی آزادی کے منافی ہیں۔ تنظیم کے مطابق اختلاف رائے کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال حکومت کی جانب سے عوامی مطالبات کے جمہوری حل میں ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ خط میں آزاد کشمیر کے انتخابی نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 12 مہاجر نشستوں کے موجودہ نظام میں شفافیت کا فقدان ہے اور حقیقی عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے جامع انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ جے کے ایل ایف نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے، مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کا سلسلہ روکا جائے اور شازیب خان کی ہلاکت سمیت دیگر واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ تنظیم نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لے اور عوامی ایکشن کمیٹی، آزاد کشمیر حکومت اور حکومت پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات کے لیے کردار ادا کرے۔ جے کے ایل ایف رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام سے ملاقات کی درخواست بھی کی ہے تاکہ وہ ان واقعات سے متعلق دستاویزی شواہد پیش کر سکیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری برادری اس صورتحال پر شدید تشویش رکھتی ہے اور مزید جانی نقصان روکنے کے لیے فوری اقدامات کی توقع کر رہی ہے۔

