جاپان اور امریکہ میں اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط، ایران پر کشیدگی کم کرنے پر زور

واشنگٹن: جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکااِچی نے اپنے پہلے سرکاری دورۂ امریکہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں عالمی و علاقائی صورتحال، خصوصاً ایران، چین اور اقتصادی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم تاکااِچی نے ایران کی موجودہ صورتحال پر جاپان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے آزادانہ جہازرانی کی اہمیت اجاگر کی۔ صدر ٹرمپ نے جاپان سے اہم سمندری گزرگاہوں میں جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے میں تعاون کی درخواست کی، جس پر جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ ان کا ملک اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ممکنہ اقدامات کرے گا۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا، جس کے تحت امریکہ میں توانائی کی پیداوار بڑھانے، نایاب معدنیات کی فراہمی اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبوں میں مشترکہ کام کیا جائے گا۔ اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس کے مطابق جاپان امریکہ کی معیشت میں 550 ارب ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کرے گا۔ وزیراعظم تاکااِچی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جاپان اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔ جاپانی حکام کے مطابق یہ سربراہی ملاقات نہایت کامیاب رہی، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر مستقبل میں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *