ٹرمپ نے ہوم لینڈ سیکورٹی سیکرٹری کرسٹی نوئم کو برطرف کر دیا، سینیٹر مارک وین ملن نیا سربراہ مقرر
نیویارک (منظور حسین سے) — امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ہوم لینڈ سیکورٹی کی سیکرٹری کرسٹی نوئم کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ اوکلاہوما سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر مارک وین ملن کو محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا نیا سیکرٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مارک وین ملن کو ہوم لینڈ سیکورٹی کی قیادت سونپی جا رہی ہے تاکہ سرحدی سلامتی، امیگریشن قوانین کے نفاذ اور داخلی سلامتی سے متعلق حکومتی پالیسیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست مینیسوٹا میں امیگریشن کارروائی کے دوران یو ایس امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے دو امریکی شہریوں کی ہلاکت کے بعد کرسٹی نوئم کی قیادت شدید تنقید کی زد میں آ گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد اپوزیشن جماعت کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ بعض ریپبلکن ارکان نے بھی ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ تنازع اور کانگریس میں ہونے والی سخت تنقید کے بعد کرسٹی نوئم پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا اور ان کی تبدیلی کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے امریکی میڈیا میں قیاس آرائیاں بھی جاری تھیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ مارک وین ملن کو سکیورٹی اور سرحدی معاملات کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت فراہم کریں گے۔ نئے نامزد سیکرٹری مارک وین ملن کا تعلق ریاست اوکلاہوما سے ہے اور وہ ریپبلکن پارٹی کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں خدمات انجام دی ہیں اور قومی سلامتی اور سرحدی امور پر سخت مؤقف رکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ امریکی قوانین کے مطابق ہوم لینڈ سیکورٹی کے نئے سیکرٹری کی تقرری کے لیے امریکی سینیٹ کی توثیق درکار ہوگی۔ توقع ہے کہ سینیٹ میں منظوری کے بعد مارک وین ملن رواں ماہ کے آخر تک اپنے عہدے کا باقاعدہ چارج سنبھال لیں گے۔ ادھر کرسٹی نوئم کی برطرفی کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر بحث کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امیگریشن اور داخلی سلامتی کی پالیسیوں میں مزید سخت اقدامات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

