کراچی کی مبینہ “کوکین کوئین” میڈم پنکی کون ہے؟ منشیات کے خوفناک نیٹ ورک کی تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی: کراچی میں حالیہ دنوں گرفتار ہونے والی مبینہ منشیات فروش انمول عرف “پنکی” المعروف “کوئین میڈم پنکی” کے بارے میں روزانہ نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق ملزمہ پاکستان کے بڑے شہروں میں پھیلے ایک منظم کوکین نیٹ ورک کی مرکزی کردار سمجھی جاتی ہے، جس نے سوشل میڈیا، آن لائن آرڈرز اور خفیہ ڈیلیوری سسٹم کے ذریعے اعلیٰ طبقے تک منشیات پہنچانے کا وسیع جال بچھا رکھا تھا۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کوکین کوئین” میڈم پنکی کو کراچی کے علاقے گارڈن سے مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کئی برسوں سے کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، مری، گلگت بلتستان اور دیگر شہروں میں مہنگی اور اعلیٰ معیار کی کوکین سپلائی کر رہی تھی۔

حکام کے مطابق چھاپے کے دوران ڈیڑھ کلوگرام سے زائد کوکین، مختلف کیمیکل، میتھ ایمفیٹامین، کیٹامین، لیڈوکین، اسلحہ، گولیاں اور مبینہ موبائل ڈرگ لیبارٹری برآمد کی گئی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ “وائٹ کوک” اور “گولڈن کوک” کے نام سے مہنگی منشیات فروخت کرتی تھی، جنہیں “کوئین” میڈم پنکی” برانڈ کے تحت مارکیٹ کیا جاتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزمہ کا نیٹ ورک انتہائی جدید انداز میں کام کرتا تھا۔ واٹس ایپ، سوشل میڈیا اور جعلی سموں کے ذریعے آرڈر لیے جاتے تھے، جبکہ خواتین رائیڈرز کے ذریعے پوش علاقوں میں خفیہ انداز میں منشیات پہنچائی جاتی تھی تاکہ پولیس چیکنگ سے بچا جا سکے۔

بعض رپورٹس کے مطابق منشیات پیزا بکس، برگر پیکنگ اور کمپیوٹر پارٹس میں چھپا کر بھی منتقل کی جاتی تھی۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پنکی مبینہ طور پر 300 افراد پر مشتمل ایک بڑے نیٹ ورک کو چلا رہی تھی، جس میں تقریباً 20 خواتین اور بعض غیر ملکی سہولت کار بھی شامل تھے۔ پولیس حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کے ملک بھر میں 700 سے 800 تک گاہک موجود تھے، جن میں بعض بااثر شخصیات، کاروباری افراد، پارٹی سرکلز اور شوبز سے وابستہ افراد بھی شامل ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ملزمہ کے خلاف 2021 سے مختلف تھانوں میں منشیات اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے متعدد مقدمات درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم 10 مقدمات میں مطلوب تھی اور طویل عرصے سے مفرور چلی آرہی تھی۔سوشل میڈیا پر اس کیس نے اس وقت مزید ہلچل مچا دی جب عدالت میں پیشی کے دوران ملزمہ کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جن میں اسے بغیر ہتھکڑی اور مبینہ “وی آئی پی پروٹوکول” کے ساتھ عدالت لایا گیا۔

عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک خطرناک منشیات کیس کی ملزمہ کو خصوصی رعایت کیوں دی گئی۔ بعد ازاں سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف انکوائری اور معطلی کے احکامات جاری کیے۔تحقیقاتی رپورٹوں میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ملزمہ نے شناخت چھپانے کیلئے اپنے فنگر پرنٹس تیزاب سے ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم جدید فرانزک طریقوں کی مدد سے اسے شناخت کر لیا گیا۔عدالت نے ابتدائی طور پر ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، تاہم بعد میں مزید تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ بھی دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی گرفتاری کیلئے مختلف شہروں میں چھاپے جاری ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *