ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس: سی ڈی اے کا لیز منسوخی آرڈر قانونی قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، عدالت نے کمپنی کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست مسترد کردی۔عدالت نے سی ڈی اے کے 8 مارچ 2023 کو جاری لیز منسوخی کے آرڈر کو قانونی قرار دے دیا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ محمد سرفراز ڈوگر نے تحریری فیصلہ جاری کردیا، کمپنی کی جانب سے دائر کردہ ایگزیکیوشن پٹیشن بھی عدالت نے خارج کردی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے تیسرے فریق (انویسٹرز) کی درخواستیں نمٹاتے ہوئے کہا کہ انویسٹرز اپنے حقوق کیلئے متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مالیاتی شرائط کی پاسداری نہیں کی، درخواست گزار کمپنی 2022 کی قسط کے 2.916 ارب روپے جمع کروانے میں ناکام رہی، سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی سپریم کورٹ کے دیے گئے حق کے عین مطابق ہے، پٹیشنر نے سپریم کورٹ کے دیے گئے لائف لائن موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔عدالت نے پٹیشنر کی جانب سے 30 روزہ نوٹس کی تکنیکی غلطی کے اعتراض کو بھی مسترد کردیا، سپریم کورٹ نے 9 جنوری 2019 کو لیز بحال کرتے ہوئے 8 سال میں 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، کمپنی نے 2021 کی قسط جمع کروائی لیکن 2022 کی قسط کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کیا۔ سی ڈی اے نے یاد دہانیوں کے بعد 7 فروری 2023 کو نوٹس اور پھر 8 مارچ کو لیز منسوخی کا حکم جاری کیا تھا، پٹیشنر کی جانب سے 50 کروڑ روپے کا چیک عدالت نے ناکافی قرار دے دیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کی جانب سے سی ڈی اے کے لیز منسوخی آرڈر کو تکنیکی نکتے پر چیلنج کیا گیا، یہ تکنیکی نکتہ 30 دن کے نوٹس کی مدت کے حساب سے متعلق ہے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق لیز منسوخی کا نوٹس7 فروری جبکہ لیز منسوخی آرڈر 8 مارچ 2023 کو جاری ہوا، درخواست گزار کے مطابق فروری 28 دن کا ہونے کی وجہ سے 30 دن کے نوٹس پیریڈ کی مدت مکمل نہیں ہوئی، عدالت اس مؤقف کو قانونی طور پر غلط اور منصفانہ اصولوں کے لحاظ سے بھی کمزور قرار دیتی ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ درخواست گزار کی جانب سے مسلسل اور تسلیم شدہ خلاف ورزی موجود ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے رجسٹرار کے پاس 50 کروڑ روپے کا چیک جمع کروانے کی پیشکش کی، تسلیم شدہ مالی نادہندگی کے تناظر میں اس نوعیت کی پیشکش نہایت غیر متناسب اور قانونی طور پر بے معنی ہے، ریکارڈ کے مطابق صرف 2022 کی قسط کے حوالے سے تسلیم شدہ نادہندگی 2.916 ارب روپے ہے، 50 کروڑ روپے کی مشروط یا علامتی ادائیگی نادہندگی کے نتائج کو ختم نہیں کر سکتی۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نادہندہ جزوی رقم جمع کروا کر اربوں روپے مالیت کے منصوبے پر دوبارہ کنٹرول یا قبضہ حاصل کرنے کا حق نہیں رکھتا، عدالت اجازت نہیں دے سکتی کہ ایک نادہندہ فریق اپنی شرائط پر تجارتی ذمہ داریوں کی ازسرنو تشکیل کرے، جزوی ادائیگی کے ذریعے مسلسل خلاف ورزی کے قانونی نتائج کو غیر مؤثر بنانے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی، مجوزہ ادائیگی ایک حقیقی اصلاحی اقدام سے زیادہ ایک عارضی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *