جنوبی وزیرستان میں لشمینیا کے 255 مریض رپورٹ، بچوں میں بڑھتے کیسز باعث تشویش
جنوبی وزیرستان لوئر میں جلد کی بیماری لشمینیا کے تقریباً 255 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ خاص طور پر بچوں میں بڑھتے ہوئے کیسز نے مقامی آبادی کو فکرمند کر دیا ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر جنوبی وزیرستان لوئر ڈاکٹر عدنان داوڑ کے مطابق محکمہ صحت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ علاقوں میں علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضروری ادویات خصوصاً گلوکانٹائم انجیکشنز ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا اور دیگر سرکاری مراکز صحت میں دستیاب ہیں۔ڈاکٹر عدنان داوڑ کے مطابق جنوری 2026 سے مارچ 2026 تک لشمینیا کے کیسز کی تعداد جنوری میں 66، فروری میں 94 اور مارچ میں 95 رہی، جس کے بعد مجموعی کیسز 255 تک پہنچ گئے ہیں۔تحصیل برمل کے علاقوں اعظم ورسک اور شاہین پانگا میں خاص طور پر بچوں میں کیسز بڑھنے پر شہریوں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ مقامی افراد کے مطابق دیہی علاقوں میں صحت کی بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مریضوں کو بروقت علاج میں مشکلات پیش آتی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق لشمینیا ایک جلدی بیماری ہے جو ریت کی مکھی کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ اس کی مختلف اقسام جلدی زخم، اندرونی اعضاء کے متاثر ہونے اور منہ و ناک کی جھلیوں کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اندرونی قسم، جسے کالا آزار بھی کہا جاتا ہے، بروقت علاج نہ ہونے پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔محکمہ صحت نے بتایا کہ علاج سرکاری اسپتالوں میں مفت فراہم کیا جا رہا ہے اور مریضوں کو انجیکشنز صرف طبی نگرانی میں دیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں مچھر دانیاں، اسپرے اور دیگر حفاظتی سامان کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ رات کو مچھر دانی کا استعمال کریں، مکمل آستین والے کپڑے پہنیں، گھروں کو صاف رکھیں اور جلد پر کسی بھی زخم کی صورت میں فوری طبی معائنہ کروائیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔مقامی شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ مزید افراد اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔

