مسلمانوں کے مذہبی حقوق، مساجد اور اسلامی اسکولوں کا تحفظ میری اولین ترجیحات میں شامل ہے، گورنر منتخب ہوا تو مسلم کمیونٹی کی بھرپور حمایت جاری رکھوں گا: بروس بلیک مین
اسلامی اسکالر سجاد مدنی کا بروس بلیک مین کی حمایت کا اعلان، مسلم کمیونٹی کے لیے ان کے عملی اقدامات اس حمایت کی بنیاد ہیں

ناصر فیضی کی رہائش گاہ پر پاکستانی امریکن کمیونٹی کا بڑا اجتماع، بروس بلیک مین کی شرکت اور مسلم کمیونٹی کے مسائل پر تفصیلی اظہارِ خیال

نیویارک، بروکلین (منظور حسین سے)
ناساؤ کاؤنٹی کے چیف ایگزیکٹو اور نیویارک کے گورنر کے انتخاب کے لیے ریپبلکن امیدوار بروس بلیک مین نے کہا ہے کہ امریکہ میں آباد مسلمانوں سمیت تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہب پر آزادانہ عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔ مساجد، اسلامی اسکولوں اور مذہبی اداروں کا تحفظ، پولیس کے ذریعے امن و امان کی بحالی اور تمام شہریوں کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی ان کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ اگر وہ نیویارک کے گورنر منتخب ہوئے تو اپنی انتظامی حدود میں رہتے ہوئے مسلم کمیونٹی سمیت تمام مذہبی اور نسلی کمیونٹیز کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناساؤ کاؤنٹی کی معروف پاکستانی امریکن شخصیت، ریپبلکن پارٹی کے سینئر رہنما اور بروکلین میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے بطور سرٹیفائیڈ پبلک اکاؤنٹنٹ (سی پی اے) خدمات انجام دینے والے ناصر فیضی کی کی انتہائی خوبصورت رھائش گاہ پر منعقدہ ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی سرکردہ شخصیات، مذہبی رہنماؤں، سیاسی و سماجی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

بروس بلیک مین نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے ناساؤ کاؤنٹی میں مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کو اہمیت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناساؤ کاؤنٹی میں رمضان المبارک کے موقع پر سالانہ افطار ڈنر کی روایت قائم کی گئی، جس میں ہر سال سینکڑوں افراد شرکت کرتے ہیں۔ اس تقریب کا مقصد مختلف مذاہب اور کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک جگہ جمع کرنا اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور دیگر مسلم خاندان بہتر مستقبل کی امید لے کر امریکہ آئے ہیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اس ملک میں تعلیم حاصل کریں، ترقی کریں اور ایک محفوظ معاشرے میں اپنا مستقبل تعمیر کریں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ انہیں ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنے مذہب، ثقافت اور روایات کے مطابق آزادانہ زندگی گزار سکیں۔

بروس بلیک مین نے کہا کہ امریکہ میں مذہبی آزادی بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ہر شہری کو اپنے دین پر عمل کرنے کا مکمل حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنے دورِ انتظامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے دور میں ناساؤ کاؤنٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ میں پہلے مسلم پولیس چیپلین کی تعیناتی عمل میں لائی گئی، تاکہ مسلم کمیونٹی کی مذہبی ضروریات اور پولیس کے ساتھ رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مساجد اور اسلامی اسکولوں سمیت تمام مذہبی اداروں کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ والدین اطمینان کے ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت جاری رکھ سکیں۔

بروس بلیک مین نے نیویارک کی موجودہ گورنر کیتھی ہوکل کی پالیسیوں پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیویارک میں ٹیکسوں اور یوٹیلٹی بلوں کا بڑھتا ہوا بوجھ عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک ریاست کا بجٹ تقریباً 277 بلین ڈالر ہے، لیکن اتنے بڑے مالی وسائل کے باوجود عوام کو درپیش مسائل حل نہیں ہو رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستی بجٹ کے مؤثر استعمال اور بہتر انتظامی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اگر وہ گورنر منتخب ہوئے تو عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقم کو شہریوں کی بہتری، بنیادی سہولیات، تعلیم، تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران یوٹیلٹی بلوں میں اضافے نے عام خاندانوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

بروس بلیک مین نے مین ہیٹن میں نافذ کیے گئے
Congestion Pricing
نظام پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس پالیسی سے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں اس طرح کے چارجز کا دائرہ بروکلین، کوئنز، اسٹیٹن آئی لینڈ اور دیگر علاقوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔

امیگریشن کے معاملے پر بروس بلیک مین نے کہا کہ وہ قانونی طریقے سے امریکہ آنے والے تارکین وطن کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ ان افراد کی قدر کرتے ہیں جو محنت اور قانون کی پابندی کے ساتھ امریکی معاشرے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بعض اوقات ان کے امیگریشن سے متعلق بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ان کی مخالفت غیر قانونی سرگرمیوں، منشیات کی فروخت، انسانی اسمگلنگ اور خواتین و بچوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث افراد سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی پابندی کرنے والے تارکین وطن کو عزت و احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع ملنے چاہئیں، جبکہ جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں مختلف مذاہب، قومیتوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں اور امریکی ڈریم کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

تقریب کے دوران پاکستانی امریکن کمیونٹی کی ممتاز شخصیت اور اسلامی اسکالر سجاد مدنی نے ناساؤ کاؤنٹی کے چیف ایگزیکٹو بروس بلیک مین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ بروس بلیک مین نے اپنے دورِ انتظامیہ میں مسلم کمیونٹی کے ساتھ تعاون اور ان کے مذہبی معاملات کو اہمیت دی ہے۔

سجاد مدنی نے کہا کہ ناساؤ کاؤنٹی میں مسلم پولیس چیپلین کی تعیناتی، رمضان المبارک کے سالانہ افطار ڈنر کا انعقاد اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات کے حوالے سے کیے گئے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بروس بلیک مین نے مسلم کمیونٹی کے ساتھ عملی طور پر رابطہ اور تعاون برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے بروس بلیک مین کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اگر وہ نیویارک کے گورنر منتخب ہوئے تو مسلم کمیونٹی کے حقوق، مذہبی آزادی، مساجد اور اسلامی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لیے بھی اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

تقریب کے میزبان ناصر فیضی نے بروس بلیک مین کا خیرمقدم کیا۔ ناصر فیضی ناساؤ کاؤنٹی کی معروف پاکستانی امریکن شخصیت اور ریپبلکن پارٹی کے سینئر رہنما ہیں، جو بروکلین میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے بطور سرٹیفائیڈ پبلک اکاؤنٹنٹ اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی میں بھی ان کی سماجی اور سیاسی سرگرمیاں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔

اس موقع پر بروس بلیک مین کے سینئر ایڈوائزر چوہدری اکرام رحمانی، ایشین افیئرز کے ڈائریکٹر آؤن ملتشد نقوی، پاکستان کنڈیشن ایسوسی ایشن کے صدر و چیئرمین ولیم شہزاد، ریپبلکن پارٹی کے دیگر رہنماؤں، اسمبلی مین، سٹی و اسٹیٹ کے عہدیداروں اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجتماع میں مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق، مساجد اور اسلامی اسکولوں کی حفاظت، پولیس کے ساتھ کمیونٹی کے روابط، امیگریشن، ٹیکسوں، یوٹیلٹی بلوں اور نیویارک کے مستقبل کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بروس بلیک مین نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایک ایسے متحد معاشرے کے قیام کے خواہاں ہیں جہاں ہر مذہب اور قومیت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو یکساں احترام اور آزادی حاصل ہو اور امریکہ آنے والے خاندانوں کے بچوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل میسر آ سکے












