عالمی معاملات پر مشاورت: ٹرمپ کا کیمپ ڈیوڈ میں خصوصی کابینہ اجلاس مؤخر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سمیت اہم عالمی اور داخلی معاملات پر مشاورت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں طلب کیا گیا کابینہ کا خصوصی اجلاس موخر کر دیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق عہدے سے سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ سمیت تمام کابینہ ارکان شریک ہوں گے۔کابینہ کا کیمپ ڈیوڈ کا دورہ ممکنہ خراب موسم کے باعث مؤخر کیا گیا، کابینہ کا خصوصی اجلاس اب وائٹ ہاؤس میں ہی ہوگا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کابینہ کا یہ غیر معمولی اجلاس اچانک اور پہلے سے طے شدہ نہیں تھا جس میں کابینہ کے تمام اہم اراکین نےشرکت کرنی تھی۔ذرائع کے مطابق اجلاس کو وائٹ ہاؤس کے بجائے دور ایک پُرسکون اور محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اعلیٰ حکام بغیر کسی سیاسی یا میڈیا دباؤ کے اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کر سکیں۔رپورٹس کے مطابق اجلاس میں خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر غور کیا جائے گا۔اس سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو افزودہ یورینیم یا تو امریکا کو دینا ہوگی تاکہ وہ امریکا میں لاکر تباہ کردی جائے، یا ترجیحی طور پر ایران کے ساتھ رابطے میں رہ کر کسی اور قابلِ قبول جگہ پر اٹامک انرجی کمیشن یا کسی متوازی ادارے کے ساتھ مل کر تباہ کرنا ہوگی۔ یاد رہے کہ کیمپ ڈیوڈ امریکی صدور کی جانب سے ماضی میں بھی حساس قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر اہم مشاورت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔یہی مقام 1978 کے تاریخی کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے لیے بھی مشہور ہے جس میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

