ٹرمپ حکومت نے گرین کارڈ سے متعلق متنازع “پبلک چارج” قانون بحال کر دیا
ٹرمپ انتظامیہ نے وہ پالیسی دوبارہ نافذ کر دی جس کے تحت سرکاری سہولیات استعمال کرنے والے تارکینِ وطن کو گرین کارڈ سے محروم کیا جا سکتا ہے
میامی: ٹرمپ انتظامیہ نے ایک ایسی پالیسی دوبارہ نافذ کر دی ہے جس کے تحت سرکاری امدادی پروگراموں سے فائدہ اٹھانے والے بعض تارکینِ وطن کو گرین کارڈ دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ ان پروگراموں میں فوڈ اسٹامپس، میڈیکیڈ، ہاؤسنگ واؤچرز اور دیگر عوامی سہولیات شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ پالیسی، جسے “پبلک چارج” (Public Charge) کہا جاتا ہے، جمعرات کو فیڈرل رجسٹر میں شائع ہوئی اور 20 جولائی کو باضابطہ طور پر نافذ العمل دستاویز کے طور پر شائع کی جائے گی۔ یہ اصول پہلی بار فروری 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران قانونی امیگریشن محدود کرنے کی کوششوں کے تحت نافذ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں صدر جو بائیڈن کی حکومت نے اسے واپس لے لیا تھا۔ اس پالیسی کے مطابق گرین کارڈ کے درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ امریکہ پر مالی بوجھ یا “پبلک چارج” نہیں بنیں گے۔ اس پالیسی کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریپبلکن انتظامیہ غیر قانونی اور قانونی دونوں طرح کی امیگریشن کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، جبکہ امریکہ میں صحت اور خوراک کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) نے اپنے ایکس (X) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت “خود انحصاری کے اصول کی دوبارہ توثیق کر رہی ہے، عوامی وسائل کا تحفظ کر رہی ہے اور ایسی پالیسیوں کا خاتمہ کر رہی ہے جن سے محنتی امریکی ٹیکس دہندگان کے خرچ پر انحصار کو فروغ ملا۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ “صدر ٹرمپ کی قیادت میں یو ایس سی آئی ایس اس بنیادی اصول کو بحال کر رہی ہے کہ امریکہ آنے والے تارکینِ وطن کو اپنا خرچ خود اٹھانے کے قابل ہونا چاہیے۔” ادارے کے مطابق یہ پالیسی 18 ستمبر سے نافذ ہوگی۔ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی میں بڑے پیمانے پر ملک بدری، شہروں، سرحدوں اور داخلی راستوں پر سخت کارروائیاں نمایاں ہیں، لیکن حالیہ اقدامات قانونی تارکینِ وطن اور ایسے خاندانوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں جن میں بعض افراد امریکی شہری جبکہ بعض غیر شہری ہیں۔ وفاقی قانون پہلے ہی مستقل رہائش یا قانونی حیثیت حاصل کرنے والوں سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ ریاست پر مالی بوجھ نہیں بنیں گے، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ضابطے میں ایسے سرکاری پروگراموں کی فہرست مزید وسیع کر دی گئی ہے جن سے فائدہ اٹھانا درخواست مسترد ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلی مرتبہ 2018 میں اس پالیسی کو اس دلیل کے ساتھ پیش کیا تھا کہ امریکہ میں صرف وہی افراد آئیں جو اپنے اخراجات خود برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تاہم تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اسے “دولت کا امتحان” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اس کے نتیجے میں صحت عامہ کے مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق اس پالیسی نے خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کی، جس کے باعث بہت سے تارکینِ وطن اور ان کے امریکہ میں پیدا ہونے والے اہلِ خانہ نے ان سرکاری سہولیات اور امدادی پروگراموں سے بھی فائدہ اٹھانا چھوڑ دیا جن کے وہ قانونی طور پر حق دار تھے۔

