ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی غیر مقبول پالیسیاں؛ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی تاریخی شکست کی بڑی وجوہات
ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا، عوامی اخراجات میں اضافے، ایران کے ساتھ جنگ، تجارتی محصولات اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اطمینان نے ریپبلکنز کے انتخابی نتائج کو متاثر کیا، ووٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کے دو سالہ دورِ حکومت پر اپنے ردعمل کا اظہار کر دیا
(منظور حسین)
واشنگٹن: امریکہ کے 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی۔ انتخابی نتائج کو صدر ٹرمپ کی حکومت کے ابتدائی دو سالوں کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا گیا۔ اگرچہ امریکی تاریخ میں عموماً وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہا تھا، تاہم اس مرتبہ ریپبلکن پارٹی کی شکست کا حجم اور روایتی طور پر اس کے مضبوط سیاسی مراکز میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے سیاسی حلقوں کو بھی متوجہ کیا۔
انتخابی تجزیوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی شکست کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما رہے، جن میں ایران کے ساتھ جاری جنگ، مہنگائی، روزمرہ استعمال کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، پیٹرول کے اخراجات، صدر ٹرمپ کی غیر مقبول پالیسیوں، تجارتی محصولات اور حکومتی معاملات میں شفافیت سے متعلق عوامی خدشات نمایاں تھے۔ انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹک امیدواروں نے ان مسائل کو بھرپور انداز میں اٹھایا اور ووٹرز کو یہ پیغام دیا کہ انتخابات دراصل ٹرمپ انتظامیہ کی کارکردگی پر عوامی رائے شماری کی حیثیت رکھتے تھے۔
ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکنز کے لیے بڑا انتخابی مسئلہ بن گئی
ایران کے خلاف جاری جنگ کو ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مشکلات کی اہم وجوہات میں شمار کیا گیا۔ جنگ کے باعث امریکہ میں پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عالمی منڈیوں اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی دباؤ پڑا تھا۔ ڈیموکریٹک امیدواروں نے انتخابی مہم کے دوران سوال اٹھایا کہ صدر ٹرمپ نے بیرون ملک فوجی کارروائیوں میں شمولیت اختیار کر کے امریکی عوام کو مزید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے انتخابی نتائج کے بعد بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے کا دفاع کیا، تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کارکردگی کو متاثر کیا تھا۔ ان کے مطابق جنگ انتخابی شکست کی وجوہات میں سے ایک تھی۔
مہنگائی اور روزمرہ اخراجات نے ووٹرز کی ناراضی بڑھا دی
امریکہ بھر میں عوام کو روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافے کا سامنا تھا۔ پیٹرول، اشیائے خورونوش، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقوں کو متاثر کیا تھا۔ انتخابی مہم کے دوران کئی ریاستوں میں ووٹرز نے معاشی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
نیو یارک کی ایک خاتون ووٹر نے انتخابات سے قبل دنیا انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اشیائے خورونوش مہنگی ہو رہی تھیں اور زندگی گزارنے کے لیے تقریباً ہر چیز پر زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی تھی۔ ان کے اس بیان سے عام شہریوں کو درپیش معاشی مشکلات اور عوامی بے چینی کی عکاسی ہوتی تھی۔
ڈیموکریٹس نے مہنگائی اور عوامی اخراجات میں اضافے کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع بنایا اور ریپبلکن حکومت کو ان مسائل کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انتخابی سروے میں بھی بڑی تعداد میں ووٹرز نے معاشی حالات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

