کیتھی ہوچل دوسری مدت کے لیے نیویارک کی گورنر منتخب، عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے پر اظہارِ تشکر، ٹرمپ کو بھی واضح پیغام دے دیا

میرا مقصد تاریخ بنانا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہے‘‘نیویارک کے عوام نے ایک مرتبہ پھر مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کے اعتماد کو کبھی فراموش نہیں کروں گی‘‘، حقوق اور شہری آزادیوں کو خطرہ ہوا تو صدر ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوں گی،’

(منظور حسین)

نیویارک: ریاست نیویارک کی ڈیموکریٹک گورنر کیتھی ہوچل نے 3 نومبر 2026 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دوسری مکمل مدت کے لیے گورنر کا عہدہ حاصل کر لیا۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور ناساؤ کاؤنٹی کے ایگزیکٹو بروس بلیک مین کو شکست دی۔ کامیابی کے بعد مین ہیٹن میں منعقدہ انتخابی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیتھی ہوچل نے ریاست کے عوام، اپنی انتخابی ٹیم، رضاکاروں، خاندان اور سیاسی ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا۔

کیتھی ہوچل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’نیویارک کے عوام، ایک مرتبہ پھر مجھ پر اعتماد کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ آپ کی گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دینا میری زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے اور میں آپ کے اعتماد کو کبھی معمولی نہیں سمجھوں گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں دوبارہ خدمت کا موقع دیا تھا اور وہ آئندہ چار برسوں میں بھی ریاست کے عوام کی بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گی۔

صدر ٹرمپ کو دوٹوک پیغام، حقوق پر حملہ ہوا تو مقابلہ کروں گی

اپنے خطاب کے دوران کیتھی ہوچل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر نیویارک میں اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں پیدا کرنے، خاندانوں کے اخراجات کم کرنے اور کمیونٹیز کو محفوظ بنانے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار تھیں، چاہے اس کا سیاسی کریڈٹ کسی کو بھی ملے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر وفاقی حکومت کے اقدامات سے شہریوں کے حقوق کو خطرہ لاحق ہوا یا نیویارک کے خاندانوں کو نقصان پہنچا تو وہ ہر مرتبہ صدر ٹرمپ کے سامنے کھڑی ہوں گی اور ان پالیسیوں کی مخالفت کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں کوئی بھی صدر موجود ہو، ان کی جواب دہی نیویارک کے عوام کے سامنے ہے۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کے نیویارک میں انتخابی مہم کے دوران دیے گئے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ انہیں بھی بیلٹ پر موجود امیدوار تصور کریں۔ ہوچل نے کہا کہ نیویارک کے عوام نے ایسے صدر کو یاد رکھا جس نے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، کمیونٹیز میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں میں اضافہ کیا اور تجارتی جنگوں کے ذریعے خاندانوں کے اخراجات بڑھائے۔ <Cite refs=

ایڈرین ایڈمز کے ساتھ نیویارک میں نئی تاریخ رقم

کیتھی ہوچل نے اپنی انتخابی کامیابی کے ساتھ لیفٹیننٹ گورنر منتخب ہونے والی ایڈرین ایڈمز کو بھی مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو خواتین گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر کے عہدوں پر منتخب ہوئی تھیں۔

ایڈرین ایڈمز نیویارک کی پہلی سیاہ فام خاتون لیفٹیننٹ گورنر منتخب ہوئیں۔ ہوچل نے اس کامیابی کو ان خواتین کی جدوجہد اور قربانیوں سے منسوب کیا جنہوں نے کئی نسلوں تک سیاسی اور سماجی میدان میں اپنے حقوق کے لیے کوششیں کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف دو خواتین کی نہیں بلکہ ان تمام خواتین کی جدوجہد کا نتیجہ تھی جنہوں نے معاشرے میں اپنے لیے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی کامیابی دیکھ کر نوجوان لڑکیوں کو بھی مستقبل میں قیادت کے منصب تک پہنچنے کا حوصلہ ملے گا۔

میئر زوہران ممدانی اور ڈیموکریٹک رہنماؤں کا شکریہ

کیتھی ہوچل نے نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتخابی مہم میں ان کا ساتھ دیا اور نیویارک شہر میں نئی سیاسی توانائی پیدا کی۔ انہوں نے اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز، اسٹیٹ کمپٹرولر ٹام ڈی نیپولی، انتخابی مہم کے منتظمین، مزدور یونینوں، رضاکاروں اور ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے گھر گھر جا کر ووٹرز سے رابطے کیے اور فون کالز کے ذریعے انتخابی مہم میں حصہ لیا۔

انہوں نے اپنے شوہر بل ہوچل کا بھی خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ 16 انتخابی مہمات میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان اور دوستوں کی حمایت کو بھی اپنی کامیابی کا اہم حصہ قرار دیا۔

عوامی سہولیات اور مہنگائی میں کمی آئندہ مدت کی ترجیح

اپنی تقریر میں کیتھی ہوچل نے کہا کہ انتخابی کامیابی کے باوجود نیویارک کے عوام کو مہنگائی، مہنگے کرایوں، اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور بچوں کی دیکھ بھال کے اخراجات جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صرف انتخابات جیتنے سے کسی کا کرایہ کم نہیں ہوتا اور نہ ہی اشیائے خورونوش سستی ہو جاتی ہیں، اس لیے آئندہ چار برسوں میں ان مسائل کے حل کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے اپنی سابقہ حکومتی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے متوسط طبقے کے لیے ٹیکسوں میں کمی، بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات میں توسیع، سرکاری اسکولوں میں مفت کھانے کی فراہمی، سڑکوں اور سب ویز کی حفاظت اور بالغ افراد کے لیے مفت کمیونٹی کالج کی سہولیات پر کام کیا تھا۔

’’میرا مقصد تاریخ بنانا نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانا ہے‘‘

کیتھی ہوچل نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ وہ اپنے دورِ حکومت کو ذاتی کامیابیوں کے بجائے عوام کی زندگیوں میں آنے والی مثبت تبدیلیوں کے حوالے سے یاد رکھنا چاہتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل کامیابی اس بات میں تھی کہ کتنے خاندانوں کی مدد کی گئی، کتنے لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے اور آنے والی نسلوں کے لیے کتنے دروازے کھولے گئے۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک کی اصل صلاحیت ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی تھی اور وہ ریاست کے روشن مستقبل کے لیے پُرامید تھیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہوں اور نیویارک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔

کیتھی ہوچل نے اپنی تقریر کا اختتام اس عزم کے ساتھ کیا کہ ان کی آئندہ مدتِ گورنری کا محور ذاتی سیاسی کامیابی کے بجائے ریاست کے عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *