ٹرمپ کا مجوزہ ابراہیمی معاہدہ اسلامی ممالک کے لیے سرنڈر کی دستاویز : حافظ نعیم

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ابراہیمی معاہدے کو سرنڈر کی دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم کسی صورت اسرائیل کے ناجائز قبضے کو قانونی و جائز شکل دینے والے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔ ایکس پر بیان میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والا امریکی صدر ایک بار پھر مسلم ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر غزہ کو تباہ کرنے کے بعد اب مسلم ممالک کو ابراہیمی معاہدے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہا ہے۔ فلسطین پورے کا پورا فلسطینیوں کا ہے اور بیت المقدس اس کا دارالحکومت ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک ناجائز ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مؤقف تھا اور یہی ہر پاکستانی قوم کا موقف ہے۔ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے کے کسی بھی غاصبانہ فیصلے کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مسلم حکمرانوں کو امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرنی چاہیے۔حافظ نعیم الرحمن نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر قوم کے نام اپنے خصوصی پیغام میں قوم اور عالمِ اسلام کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید قربان حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے اور مسلمانوں کو اللہ کی رضا کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دیتی ہے۔ عیدالاضحیٰ ایثار، اخوت، اتحاد اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کا عظیم موقع ہے۔ آج امتِ مسلمہ کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں مسلمانوں کو فرقہ واریت، تعصبات اور باہمی اختلافات سے بالاتر ہوکر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حافظ نعیم نے ایرانی قوم کی مزاحمت اور سامراجی دباؤ کے مقابلے میں ان کے حوصلے کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ پاکستانی قوم اس وقت شدید مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور ظالمانہ ٹیکسوں کی چکی میں پس رہی ہے جبکہ حکمران اشرافیہ اپنی مراعات اور عیاشیوں میں مصروف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *