غریب مریضوں کے فنڈز میں 121 ملین ڈالر کی خرد برد، ماؤنٹ سینائی کا سی وی ایس پر مقدمہ

نیویارک: (ویب ڈیسک) امریکی ھیلتھ سسٹم ماؤنٹ سینائی نے معروف فارماسیوٹیکل کمپنی سی وی ایس کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی نے وفاقی پروگرام “340بی” کے تحت غریب اور نادار مریضوں کے لیے مختص 121 ملین ڈالر سے زائد رقم غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھ لی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماؤنٹ سینائی کی جانب سے دائر مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی “340بی” پروگرام کے تحت اسپتالوں کو ادویات رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی ہیں تاکہ ان سے حاصل ہونے والی بچت کو کم آمدنی والے، بیمہ سے محروم اور ضرورت مند مریضوں کے علاج معالجے پر خرچ کیا جا سکے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ادویات تقسیم کرنے والی کمپنی سی وی ایس نے 2020 سے اب تک ایک مبینہ “خفیہ قیمتوں کے نظام” کے ذریعے 121 ملین ڈالر سے زائد رقم اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کی، جس کے باعث اسپتال اپنے فلاحی اور طبی پروگراموں کے لیے ضروری مالی معاونت سے محروم ہو گیا۔

ماؤنٹ سینائی کے مطابق سی وی ایس اور اس کی ذیلی کمپنیاں مریضوں یا اسپتال سے ادویات کی ادائیگیاں وصول کرتی تھیں اور بعد ازاں انہی ادویات پر میڈیکیڈ سے بھی رقوم حاصل کرتی تھیں، تاہم اصل لاگت اور بعد میں حاصل ہونے والی ادائیگی کے درمیان فرق اسپتال کو واپس کرنے کے بجائے کمپنی خود رکھ لیتی تھی۔

امریکی ھیلتھ سسٹم کا کہنا ہے کہ یہ رقم غریب اور کمزور مریضوں کو مفت یا کم قیمت طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال ہونی چاہیے تھی، مگر سی وی ایس نے مبینہ طور پر ناجائز منافع حاصل کرنے کے لیے پورے 340B سپلائی نظام پر اپنے کنٹرول کا فائدہ اٹھایا۔

مقدمے میں سی وی ایس پر فراڈ، دھوکہ دہی، معاہدے کی خلاف ورزی، ناجائز منافع خوری اور ریکیٹئرنگ جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ماؤنٹ سینائی کے مطابق جب اسپتال نے اس معاملے پر کمپنی سے وضاحت طلب کی اور ریکارڈز کے آڈٹ کا مطالبہ کیا تو سی وی ایس نے تعاون سے انکار کرتے ہوئے معاہدہ ہی ختم کر دیا، جس سے مریضوں کو ادویات کی فراہمی اور فلاحی پروگرام متاثر ہوئے۔

دوسری جانب سی وی ایس نے جاری عدالتی کارروائی پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کی خدمت اور کاروباری ترجیحات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ماؤنٹ سینائی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سی وی ایس کو دوبارہ معاہدہ بحال کرنے، مبینہ غیر قانونی عمل فوری طور پر بند کرنے اور روکی گئی رقم کا تین گنا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *