ملٹی کلچرل بزنس کولیشن کا قیام، امریکہ بھر کے چیمبرز آف کامرس متحد
تقریباً 65 کثیرالثقافتی چیمبرز اور کاروباری تنظیموں کا قومی سطح پر مشترکہ پلیٹ فارم قائم

نیویارک:(منظورحسین سے) امریکہ میں مختلف نسلی، تارکین وطن، اقلیتی اور مذہبی کاروباری برادریوں کی نمائندہ تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے ایک نئے قومی اتحاد “ملٹی کلچرل بزنس کولیشن (MBC)” کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جسے حالیہ برسوں میں قائم ہونے والے سب سے بڑے مشترکہ کاروباری اتحادوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد میں تقریباً 65 چیمبرز آف کامرس اور کاروباری و سماجی تنظیمیں شامل ہیں، جو ہسپانوی، ایشیائی، افریقی، کیریبین، مشرقِ وسطیٰ، یہودی، جنوبی ایشیائی اور دیگر تارکین وطن کمیونٹیز کے لاکھوں کاروباری افراد، کارکنوں اور صارفین کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اتحاد کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مختلف کمیونٹیز کو سرمایہ تک رسائی، سرکاری معاہدوں، معاشی دباؤ، امتیازی سلوک اور حکومتی سطح پر نمائندگی جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا رہا، مگر ماضی میں یہ تنظیمیں الگ الگ کام کرتی رہی ہیں۔ نو منتخب چیئرمین فرینک گارشیا نے کہا کہ “ہم سب نے یہ محسوس کیا کہ تقسیم رہنے کے بجائے متحد ہو کر زیادہ مؤثر انداز میں اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ اجتماعی طور پر ہم بڑی معاشی اور سماجی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔” رہنمائی کے انتخاب کے بعد فرینک گارشیا کو چیئرمین جبکہ کینی روڈن کو صدر منتخب کیا گیا۔ اسی طرح دووی ہونگ، جو آرتھوڈوکس جیوش چیمبر آف کامرس کے شریک بانی اور سی ای او ہیں، کو سیکریٹری اور اتحاد کا شریک بانی مقرر کیا گیا۔ دیگر اہم عہدیداروں میں یینیسئی بیل کو سیکنڈ وائس چیئر، مارک جیفے کو قانونی امور، جیمز کم کو بین الاقوامی تعلقات، جیرو گزمین کو میکسیکن امریکن چیمبرز کے رابطوں، جبکہ مینوئل لیبرون اور اقوام متحدہ کے گلوبل پیس ایمبیسیڈر 2026 پوراس زامبرانو کو قیادت میں شامل کیا گیا۔ اتحاد کے رہنماؤں کے مطابق MBC صرف ایک نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک مضبوط قومی وکالتی فورم ہوگا، جو حکومتی اداروں، منتخب نمائندوں اور بڑی کارپوریشنز کے ساتھ مؤثر انداز میں رابطہ کرے گا۔ تنظیم کے اہم مقاصد میں معاشی خودمختاری، سپلائر ڈائیورسٹی، افرادی قوت میں شمولیت، بین الاقوامی تجارت کے فروغ، عوامی پالیسی سازی اور اقلیتی کاروباروں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے کام کرنا شامل ہے۔ دووی ہونگ نے کہا کہ “آج ہم کروڑوں آوازوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ یہ اتحاد ہمیں حکومت اور پالیسی ساز اداروں کے ساتھ مؤثر انداز میں بات کرنے اور اپنی کمیونٹیز کے حقوق کے تحفظ کا موقع فراہم کرے گا۔”
گریٹر نیویارک چیمبر آف کامرس کے مارک جیفے نے اس اتحاد کو کاروباری اور سماجی قیادت کا ایک غیر معمولی اشتراک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف چیمبرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے سے ان کی اجتماعی قوت اور اثر و رسوخ میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ صدر کینی روڈن نے کہا کہ “ہماری کمیونٹیز امریکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ اتحاد ہمیں منظم انداز میں قومی سطح پر مؤثر نمائندگی کا موقع دے گا۔” بین الاقوامی امور کے سربراہ جیمز کم نے کہا کہ تارکین وطن کمیونٹیز کے کاروباری روابط لاطینی امریکہ، ایشیا، کیریبین اور یورپ تک پھیلے ہوئے ہیں، جنہیں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ لانچ تقریب میں شریک تنظیموں میں ایشین امریکن ویمنز چیمبر آف کامرس، بنگلہ دیشی امریکن چیمبر آف کامرس، برونکس ہسپانک چیمبر آف کامرس، کیریبین امریکن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، گریٹر نیویارک چیمبر آف کامرس، کورین امریکن چیمبر آف کامرس USA، میکسیکن امریکن چیمبر آف کامرس آف ٹیکساس، آرتھوڈوکس جیوش چیمبر آف کامرس، پیروین چیمبر آف کامرس USA، اور یونائیٹڈ اسٹیٹس بنگلہ دیش چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (USBCCI) سمیت کئی دیگر تنظیمیں شامل تھیں۔ منتظمین کے مطابق آنے والے مہینوں میں مزید چیمبرز آف کامرس اس اتحاد میں شامل ہوں گے، جبکہ آئندہ مرحلے میں قومی پالیسی فورمز، اقتصادی سمٹ، تجارتی اقدامات اور وفاقی و ریاستی حکومتوں کے ساتھ براہِ راست رابطوں کا آغاز کیا جائے گا۔ دووی ہونگ نے کہا، “یہ صرف شروعات ہے۔ جب ہم متحد ہو کر کھڑے ہوتے ہیں تو ہماری آواز زیادہ طاقتور بن جاتی ہے۔”

