عوام کو پیٹرول پر سبسڈی نہیں دی جاتی مگر 12 ارب روپے کا جہاز خرید لیا جاتا ہے۔”وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
عوام ان کے باپ کے نوکر ہیں جو عیاشیوں کے لیے قربانی دیں، وفاق پر واضع کیا کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ قابل قبول نہیں
پشاور اسٹیڈیم کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور فیصلے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان کے باپ کے نوکر ہیں جو ان کی عیاشیوں کے لیے قربانی دیں، ہم نے وفاق پر واضع کیا ہے کہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ قابل قبول نہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کو پیٹرول پر سبسڈی نہیں دی جاتی مگر 12 ارب روپے کا جہاز خرید لیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں کے حوالے سے وفاق سے میٹنگ ہوئی ہے، ہم نے وفاق پر واضع کیا ہے عوام پر مہنگائی کا بوجھ قبول نہیں، عیاشیاں آپ کریں اور قربانی عوام دے کیا وہ آپ کے باپ کے نوکر ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب کورونا تھا پوری دنیا لاک ڈاون تھا مگر ہم نے اسمارٹ لاک ڈاون کیا، تحریک انصاف کے دور میں 150 روپے لیٹر پیٹرول تھا مہنگائی کی چیخیں لگائی گئیں، پٹرول 150 روپے مہنگا ہوا وہ آوازیں اب خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 12 ارب روپے کے جہاز خرید سکتے ہیں عوام کو ریلیف نہیں دیتے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے کفایت شعاری شروع سے کی اور غیر ضروری اخراجات کم کیے ہیں، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری جدوجہد کسی شخصیت کے خلاف نہیں، جو آئین، قانون، انصاف کی بات کرے گا ہمارے قریب ہوگا۔

