فاصلاتی نظام تعلیم اب طلبہ کی پہلی ترجیح بنتی جارہی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود
اے اے او یو کی 38ویں کانفرنس اگلے سال چین کی اوپن یونیورسٹی میں منعقد ہوگی۔ صدر اے اے او یو
رپورٹ:……………………… عزیز الرحمن
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیز کی 37ویں تین روزہ سالانہ کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین بالخصوص یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود مبارکباد کے مستحق ہیں جن کی کوششوں اور سرپرستی سے یونیورسٹی میں گولڈن جوبلی کے حوالے سے جاری تقریبات اور سال 2024ء کی سب سے بڑی کانفرنس کامیابی سے اختتام پذیر ہوئی۔اس کانفرنس میں 20ممالک جن میں برطانیہ، عوامی جمہوریہ چین، جاپان، بھارت، ملائیشیاء، ایران، بنگلہ دیش، کوریا، انڈونیشیا، ترکی، آسٹریلیا اور کینڈابھی شامل تھے، کے اعلیٰ سطحی ماہرین تعلیم نے بھر پور انداز میں شرکت کی جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں پاکستان کا سافٹ امیج بلند ہوا،اس کانفرنس سے دنیا کو پیغام ملا کہ پاکستان ایک امن پسند، لبرل سوچ کا حامل بہترین ملک ہے جہاں ہر شخص کی جان و مال اور عزت محفوظ ہے، خطے میں امن اور خوشحالی کے فروغ کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔غیر ملکی اعلیٰ سطحی وفود کی بحفاظت پاکستان آمد ٗ آزادانہ علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں ان کی شرکت اور خیریت سے واپسی نے ا س بات پر مہر لگادی کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، یہاں کے لوگ امن پسند اور پیار کرنے والے ہیں، غیر ملکیوں کی بہت عزت و احترام کرتے ہیں۔کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر یو ں تو اوپن یونیورسٹی کے سبھی تدریسی و انتظامی شعبوں کا کردار لاجواب رہا ہے لیکن وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹرناصر محمود، جسٹرار، راجہ عمر یونس اور شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید کی خدمات بے مثال اور کئی دہائیوں تک کے لئے ناقابل فراموش قرار دی جاسکتی ہیں۔افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چئیرمین، پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد،وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود کانفرنس چئیر تھے، ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیر کے صد ر، انڈونیشیاکی ٹربوکا اوپن یونیورسٹی کے ریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر اوجت داروجات اور کامن ویلتھ آف لرننگ، کینڈا کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر پیٹر سکاٹ افتتاحی سیشن کے کلید ی مقررین تھے۔ شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید کانفرنس کوآرڈینیٹرجبکہ سینٹر فار لنگوئجز اینڈ ٹرانسلیشن سٹڈیر کی سینئر فیکلٹی ممبر، ڈاکٹر لبنی عمر نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دئیے۔مہمانوں کا استقبال قومی ترانے سے جبکہ تقریب کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کی گئی۔اپنے خطاب میں چئیرمین ایچ ای سی، پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی نے حیرت انگیز ترقی کی ہے، جہاں اس کے اثرات روزمرہ زندگی میں نظر آرہے ہیں وہیں تعلیم کے شعبے میں بھی محسوس ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے تحت خود کو تبدیل نہیں کریں گے تو پیچھے رہ جائیں گے۔ ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھا کہ ڈیجٹلائزیشن کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے، آج ٹیکنالوجی کو سیکھنے کے ماحول کے ساتھ مربوط کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے سیکھنے کے آن لائن طریقوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اوپن ڈسٹنس لرننگ پالیسی متعارف کی ہے اور فاصلاتی نظام تعلیم کی حامل جامعات کے علاوہ ریگولر یونیورسٹیوں کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ بھی تعلیم کے لئے بلنڈڈ موڈ کو اختیار کریں کیونکہ مستقبل آن لائن اور بلنڈڈ موڈ ہی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیر کی یہ کانفرنس ہمارے لئے مفید ثابت ہوگی یہاں سے ہم فاصلاتی نظام تعلیم کے مختلف تعلیمی طریقوں سے روشناس ہوجائیں گے۔ڈاکٹر مختار احمد نے مزید بتایا کہ دنیا میں قیام امن کے لئے ہمیں سائنس کا استعمار برائے امن و ترقی کرنا ہوگا، بہت ہوگیا ہے، سائنس کی تباکاریوں کا یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئیے، ہمیں اردگرد جانچنے کی ضرورت ہے، ہمیں فلسطین، غزہ اور کشمیرکی حالت زار کا جائزہ لینا ہوگا اور اِن تباہ کاریوں کو روکھنے کاایک مثبت حل نکالنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سائنس انسانی عقل اور سوجھ بوجھ کے دریچے کھولتی ہے، ہمیں اپنی سوجھ بوجھ اور کھوج سے امن کے ایسے چشمے تلاش کرنا چاہئیے جو سائنس کی تباہ کاریوں کی لگی آگ کو بجھا سکیں۔ڈاکٹر مختار نے ملک کے پڑھے لکھے اور تحقیقی و تخلیقی صلاحیتوں کے حامل نوجوانوں کے بہتر اور روشن مستقبل کے حوالے سے بین الاقوامی جامعات کے ساتھ قریبی تعلقات کے لئے ایجوکیشن ڈپلومیسی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیز کی 37ویں سالانہ سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک پاکستان کی سب سے بڑی اور دنیا کی چار میگا یونیورسٹیوں میں شامل، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود اپنے خطاب کے لئے جب سٹیج پر آئے تو انہوں نے اپنے پروفیسرانہ اندز سے ہال میں چھائے ہوئے سنجیدہ سٹاٹے کو اُس وقت تالیوں کی گونج سے ختم کیا جب انہوں نے بین الاقوامی مندوبین کو اُن ہی کی زبانوں میں خوش آمدید کہا۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں منعقد ہونے والی اے اے او یو کی اس کانفرنس سے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگرہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں 22ممالک کے ماہرین تعلیم شرکت کررہے ہیں جبکہ 200پاکستانی ماہرین شریک ہیں اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کو ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیز کی کانفرنس کی تیسری بار میزبانی پر فخر ہے، 1989ء اور 2013ء میں بھی اس کانفرنس کی میزبانی ہم نے کی تھی۔ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ فاصلاتی نظام تعلیم اب سیکنڈری ضرورت نہیں رہی بلکہ اب یہ فیس ٹو فیس ایجوکیشن کا متبادل نظام بن گیا ہے تاہم فاصلاتی نظام کو چند چیلنجز کا بھی سامنا ہے جنہیں فاصلاتی نظام کے ماہرین مل کر حل کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں موجودہ کانفرنس ایک اہم کردار ادار کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈیجیٹل خلیج(Digital Divide) ایک سنگین اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو آن لائن نظام تعلیم کی راہ میں بڑی رکاؤٹ بن رہا ہے۔ڈاکٹر ناصر نے کہا کہ آن لائن تعلیم کے دوسرے بڑے چیلنجز، کوالٹی آف ایجوکیشن اور اسسمنٹ پر بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر ناصر نے کہا کہ ڈیجٹلائزیشن کے نتیجے میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے ملک کے دور افتادہ علاقوں کے علاوہ دنیا بھر کے ممالک تک رسائی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اوپن یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد 12لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جس میں 35ممالک سے انٹرنیشنل طلبہ بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت ہم جیل کے قیدیوں اور خواجہ سراوں کو بھی تعلیم فراہم کررہے ہیں۔ڈاکٹر ناصر نے کہا کہ اس کانفرنس میں پورے ایشیا اوریورپ کے کچھ ممالک سے ممتاز ماہرین تعلیم، محقیقین اور پریکٹیشنرز اکٹھے ہیں جو فاصلاتی نظام تعلیم میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت اور چیلنجز پر غور و حوض کرکے اس کا بہتر حل نکالیں گے۔تقریب کے دوران ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیز کی آفیشل ایکریڈیشن سروس اینڈ ایشین موکس بک(moocs book) کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیر کے صد ر، انڈونیشیاکی ٹربوکا اوپن یونیورسٹی کے ریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر اوجت داروجات اور کامن ویلتھ آف لرننگ، کینڈا کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر پیٹر سکاٹ نے فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت فروغ تعلیم کی مشترکہ کوششوں کی حمایت کریں گے۔انہوں نے فاصلاتی اور آن لائن تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے فوائد اور خطرات پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کئی شعبوں میں انقلاب لاسکتی ہے، تعلیمی شعبے میں اس کا مثبت استعمال ضروری ہے۔کانفرنس آرگنائزر، پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد تفصیل سے بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں 14ممالک سے 70 انٹرنیشنل اور 200پاکستانی ماہرین تعلیم شرکت کررے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں 180مقالے پیش کئے جائیں گے جس کو ہم یونیورسٹی کے جرنلز میں شائع کریں گے۔ کانفرنس کے مقررین میں ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیر کے صد ر، انڈونیشیاکی ٹربوکا اوپن یونیورسٹی کے ریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر اوجت داروجات، اے اے او یو کے سیکرٹری جنرل، ڈاکٹر رحمت بودیمان، ہولمس انسٹی ٹیوٹ آسٹریلیا کے ایگزیکٹیو ڈین ہمیش کوٹس، کامن ویلتھ آف لرننگ، کینیڈا کے صدر، پروفیسر ڈاکٹر پیٹر سکاٹ، یونیورسٹی آف ساؤتھ افریقہ کے ریسرچ پروفیسر، پال پرنسلو اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم شامل تھے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، پروفیسرڈاکٹر ضیاء القیوم نے ” مستقبل کی تشکیل:اعلیٰ تعلیم میں ڈیجٹل تبدیلی” کے عنوان پراظہار خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی اعلیٰ تعلیم کے منظرنامے کا ایک اہم پہلو ہے، اس نے طلبہ کے سیکھنے، اساتذہ کے پڑھانے اور محققین کے تحقیق کے طریقوں کو آسان بنادیا ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ ورچوئل یونیورسٹی پاکستان کے ریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر ارشد سلیم بھٹی مہمان اعزاز تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ضیاء القیوم نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی ہر تعلیمی ادارے کی ضرورت بن چکی ہے، تعلیم میں مصنوعی ذہانت، چیٹ جی پی ٹی، ایل ایل ایم، اے آر اور وی آر کا استعمال بہت اہمیت اختیار کرچکا ہے تاہم اس جدید ٹیکنالوجی سے استاد کی اہمیت اور ضرورت میں کمی نہیں آئی بلکہ نئی ٹیکنالوجی نے استاد کا کام آسان کردیا ہے۔ڈاکٹر ضیاء القیوم کاکہنا تھا کہ نئی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لئے فیکلٹی ممبران کو اس کی بہتر استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔ڈاکٹر ضیاء القیوم نے ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹی کے ممبران پر زور دیا کہ جنگی، آفت زدہ علاقوں کے عوام اور غریبوں کے بچوں کی تعلیمی سپورٹ کے لئے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا جائے۔انہوں نے فاصلاتی نظام تعلیم کی بہتری کے لئے ایشیا کی تمام اوپن یونیورسٹیوں کا مابین کولبریشن کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اختتامی تقریب سے اپنے خطاب میں ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ اس کانفرنس کے انعقاد سے ایشین ممالک کی اوپن یونیورسٹیوں کو باہمی اشتراک کے مواقع مل گئے۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا اثر زندگی کے ہر پہلو میں نظر آرہا ہے اور فاصلاتی نظام تعلیم میں اس کے مثبت استعمال پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹیزکے صدر، پروفیسر ڈاکٹر اوجت داروجات نے اعلان کیا کہ اے اے او یو کی 38ویں کانفرنس اگلے سال چین کی اوپن یونیورسٹی میں منعقد ہوگی۔تقسیم انعامات کی تقریب میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر، پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید جو کانفرنس کوآرڈینیٹر بھی تھے کو ایشین ایسوسی ایشن آف اوپن یونیورسٹی کے لئے بہترین خدمات پر ‘”میریٹورئیس آنر ایوارڈ” سے نوازا گیا۔