نیویارک میں سان ڈیاگو حملے کے بعد مسلم کمیونٹی سے اظہارِ یکجہتی، بین المذاہب رہنماؤں اور حکومتی نمائندوں کا بڑا اجتماع
بروکلین، نیویارک: (منظور حسین)

نیویارک سٹی میں مختلف سرکاری اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین المذاہب برادریوں کے رہنماؤں نے ایک اہم اور پُرجوش اجتماع میں شرکت کی، جس کا مقصد سان ڈیاگو میں پیش آنے والے افسوسناک حملے کے بعد مسلم کمیونٹی سے یکجہتی کا اظہار کرنا تھا، جس میں تین مسلمان افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

یہ ہنگامی یکجہتی اجلاس امام محمد شاہد اللہ اور جے ایم سی کے سیکرٹری جنرل محمد فخرالاسلام دلور کی قیادت میں اور نیویارک مسلم کمیونٹی کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں نفرت انگیز کارروائیوں اور اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ طور پر آواز بلند کرنے پر زور دیا گیا۔ اس اجتماع کے فوراً بعد نیویارک مسلم کمیونٹی کی جانب سے ایک علیحدہ “ویجل اور خصوصی دعا” کا بھی اہتمام کیا گیا، جواسلامک سنٹر آف سان ڈیاگو میں پیش آنے والے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی یاد میں منعقد ہوا۔

اس ویجل کا مقصد نفرت اور تشدد کے جواب میں امن، محبت اور اتحاد کا پیغام دینا تھا۔ یہ ویجل جے ایم سی کے سامنے 85-37، 168 اسٹریٹ، نیویارک 11432 پر منعقد ہوا، جہاں شرکاء نے دوپہر 1:15
بجے خصوصی نماز ادا کی، جس کے بعد اجتماعی ویجل کا اہتمام کیا گیا۔

شرکاء نے قرآنِ پاک کی یہ آیت بھی پڑھی:
“اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔” (سورۃ المائدہ 5:8)

تقریب کے دوران مختلف مذاہب، کمیونٹیز اور سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا اور امن، اتحاد اور باہمی احترام کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

مقررین نے کہا کہ اسلاموفوبیا، یہود دشمنی، نسل پرستی اور ہر قسم کی نفرت کی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں

۔ اجتماع میں گورنر آفس، اٹارنی جنرل آفس، میئر آفس، نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ ، نیویارک کا فائر ڈیپارٹمنٹ ، میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی ، نفرت انگیز جرائم کی روک تھام کے دفتر، کونسل آف پیپلز آرگنائزیشن اور دیگر تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔

تمام شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ نفرت اور تشدد انسانیت کو تقسیم نہیں کر سکتے۔

تقریب کا آغاز امام ظفیر علی (ڈین، المامور اسکول) کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جس سے ماحول روحانی اور پر وقار ہو گیا۔

ممتاز مقررین میں جے ایم سی کے نائب صدر اے ٹی اےب منان، کیورا رچرڈسن (گورنر کیتھی ہوکل کے دفتر برائے مذہبی و غیر منافع بخش امور)، فائرڈیپارٹمنٹ آف نیو یارک کے چیپلین جوزف پوٹاسنک، اور باب کپلان (ہیومن رائٹس کمشنر و ایم ٹی اے چیپلین) شامل تھے۔

مزید مقررین میں نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی کا پیغام (جو ڈیرن ساوان کے ذریعے پیش کیا گیا)، نیویارک اسٹیٹ اٹارنی جنرل آفس کے محمد محسن، نیویارک سٹی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے کمیونٹی افیئرز بیورو کے انسپکٹر عبداللہ، کوئینز بورو پریذیڈنٹ آفس کے محمد صادق اور کوئینز ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کی روکایہ شامل تھیں۔

بین المذاہب نمائندگی میں ڈاکٹر ہنری گولڈ سمتھ (انٹر فیتھ سینٹر آف نیویارک)، ربی یوسی مینڈلسن، سکھ اور چینی برادری کے نمائندے اور دیگر مذہبی رہنما شامل تھے، جنہوں نے باہمی اتحاد اور امن کی اہمیت پر زور دیا۔

جے سی آر سی، یو جے اے فیڈریشن آف نیویارک، کوئینز جیوش کمیونٹی کونسل، ایچ جے سی ، گاڈ اسکواڈ، جے ایم سی قیادت اور “ہیٹ ٹو ہوپ” مہم کے نمائندوں نے بھی نفرت کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور امن کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ تمام مقررین نے سخت الفاظ میں اسلاموفوبیا، یہود دشمنی، نسل پرستی اور ہر قسم کی نفرت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی کمیونٹی کے خلاف تشدد دراصل پوری انسانیت پر حملہ ہے۔

اختتام پر متاثرہ افراد کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں اور اس بات پر زور دیا گیا کہ معاشرے میں برداشت، محبت اور باہمی احترام کو فروغ دے کر ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشکل حالات میں اتحاد ہی سب سے بڑی طاقت ہے اور انسانیت کو نفرت پر ہمیشہ فوقیت دینی چاہیے۔





















