گریس بائبل فیلو شپ چرچ آف نیو یارک کی جانب سے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے12 سالہ ماریہ شھباز کی بازیابی کیلیئے پرامن مظاھرہ
مین ہیٹن، نیویارک (منظور حسین سے)

پاکستانی امریکن مسیحی کمیونٹی اور گریس بائبل فیلو شپ چرچ آف نیو یارک کی جانب سے اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان میں مبینہ طور پر اغوا کی جانے والی 12 سالہ کمسن بچی ماریہ شہباز کی جبری شادی اور قانونی کارروائی کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔

مظاہرے کی قیادت گریس بائبل فیلو شپ چرچ کے سینئر پاسٹر اور پاکستانی امریکن بزنس مین پاسٹر طارق رحمت نے کی جبکہ سیموئیل روحیل، عارف کھوکھر اور دیگر مسیحی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں کمیونٹی نمائندگان نے شرکت کی۔

اس احتجاج میں خواتین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے درج تھے جن میں “پاکستان میں جبری شادیاں نامنظور”، “اقلیتی برادری کے ساتھ غیر قانونی رویہ بند کیا جائے” اور دیگر مطالبات شامل تھے۔

مظاہرین نے پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقی، غیر شرعی اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کو مبینہ طور پر ایک مسلم خاندان نے اغوا کیا اور بعد ازاں اسے اپنے زیرِ اثر رکھ کر جبری طور پر مذہب کی تبدیلی اور شادی کے عمل سے گزارا گیا۔

مقررین نے کہا کہ عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ متاثرہ بچی نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا، تاہم مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ 12 سال کی عمر میں ایک کمسن بچی کس حد تک اپنے فیصلے خود کرنے کی اہل ہو سکتی ہے۔

مظاہرے کے شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے، ماریہ شہباز کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے اور اقلیتوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر مظاہرین نے خبردار کیا کہ وہ اپنا احتجاج اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس، سینیٹ اور وائٹ ہاؤس تک بھی لے جائیں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ماریہ شہباز کی بازیابی عمل میں نہیں آتی۔

تفصیلات کے مطابق اس سے قبل 23 اپریل کو بھی اسی نوعیت کے احتجاج کی تیاری کی گئی تھی تاہم پاکستانی قونصلیٹ کی درخواست پر اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں کمیونٹی رہنماؤں نے قونصلیٹ حکام سے ملاقات بھی کی جس میں ماریہ شہباز کے مبینہ کیس، جبری شادی کے خاتمے اور ان کی فوری بازیابی کے مطالبات پیش کیے گئے، تاہم اس ملاقات کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق اسی صورتحال کے بعد پاسٹر طارق رحمت اور دیگر کمیونٹی رہنماؤں نے دوبارہ مشاورت کے بعد 7 مئی کو احتجاج کا حتمی فیصلہ کیا اور اس کے لیے باقاعدہ اجازت بھی حاصل کی گئی تھی۔

یہ احتجاج صبح 10:30 بجے سے دوپہر 3:00 بجے تک اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے ایسٹ 46ویں اسٹریٹ پر جاری رہا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “جبری شادیاں نامنظور”، “اقلیتی برادریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے” اور دیگر نعرے درج تھے۔

مظاہرین نے پاکستان میں اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری کے ساتھ مبینہ ناانصافیوں اور کمسن لڑکیوں کے تحفظ کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا مطالبہ کیا۔مقررین نے عدالت میں دیے گئے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 12 سال کی عمر میں ایک کمسن بچی اپنے فیصلے خود کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔

مظاہرین نے پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر اخلاقی، غیر انسانی اور مبینہ طور پر اقلیتی حقوق کے منافی قرار دیا۔

پاسٹر طارق رحمت اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ یہ احتجاج پرامن مگر مؤثر پیغام تھا جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور کمسن بچیوں کے تحفظ کی ضرورت کی جانب دلانا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی سلسلہ اقوام متحدہ کے علاوہ امریکی کانگریس، سینیٹ اور وائٹ ہاؤس تک بھی بڑھایا جائے گا۔






















