امیگریشن تعاون سے متعلق بل مسترد ہونے پر مائیکل نوواخوف کی ڈیموکریٹس پر تنقید

بروکلین، نیویارک: (منظور حسین) نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن مائیکل نوواخوف نے امیگریشن کے معاملات میں ریاستی اور وفاقی حکومت کے درمیان تعاون بڑھانے سے متعلق ایک تجویز مسترد کیے جانے پر ڈیموکریٹک قانون سازوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسمبلی مین مائیکل نوواخوف، جو بروکلین کے 45ویں ضلع کی نمائندگی کرتے ہیں، نے گورنمنٹل آپریشنز کمیٹی کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ریاست بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی مزید متاثر ہوگی۔ اس تجویز کا مقصد ریاست کو وفاقی حکام کے ساتھ امیگریشن معاملات میں تعاون سے روکنے والی پالیسیوں کو ختم کرنا تھا۔ منگل کو جاری کردہ اپنے بیان میں نوواخوف نے کہا کہ نیویارک کی “سینکچری اسٹیٹ” پالیسیوں نے عوامی تحفظ کو نقصان پہنچایا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خطرناک افراد کو سڑکوں سے ہٹانا مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا، “جب سے سینکچری اسٹیٹ پالیسی نافذ ہوئی ہے، ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار خطرناک افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹک قانون ساز عوامی تحفظ کے بجائے سیاسی ترجیحات کو فوقیت دے رہے ہیں۔ بروکلین سے تعلق رکھنے والے اس قانون ساز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ خود ایک تارک وطن ہیں اور قانونی امیگریشن کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ آنے والے افراد کو قانونی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، “سابق سوویت یونین میں پرورش پانے کے باعث میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے آزادی کی علامت ہے، لیکن ہمیں اپنی سرحدوں پر کنٹرول برقرار رکھنا ہوگا۔ جو لوگ قانونی طریقے سے یہاں آئے اور اپنی باری کا انتظار کیا، ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔” امیگریشن قوانین اور سینکچری اسٹیٹ پالیسیوں کا معاملہ نیویارک سمیت پورے امریکہ میں ایک اہم سیاسی موضوع بنا ہوا ہے۔ حامیوں کے مطابق یہ پالیسیاں تارکین وطن کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے عوامی تحفظ اور وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون متاثر ہوتا ہے۔ اسمبلی مین مائیکل نوواخوف مستقبل میں بھی سخت امیگریشن پالیسیوں اور ریاستی و وفاقی اداروں کے درمیان بہتر تعاون کے حق میں آواز اٹھاتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *