نیویارک میں امریکن پاکستانی پبلک افئیر کمیٹی کے زیرِ اہتمام کانگریس مین ٹام سوازی کے اعزاز میں پروقار میٹ اینڈ گریٹ تقریب،

پاکستانی امریکن کمیونٹی کے رہنماؤں کی بڑی تعداد میں شرکت پاک امریکہ تعلقات، پاکستانی امریکن کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی، آئندہ انتخابات، پاکستان کی صورتحال اور فلسطین کی تعمیرِ نو سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال

اولڈ ویسٹبری، نیویارک (رپورٹ: منظور حسین)

امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی

American Pakistani Public Affairs Committee(APPAC)

کے زیرِ اہتمام بدھ، 14 اکتوبر 2026 کو نیویارک کے علاقے اولڈ ویسٹبری میں امریکی کانگریس کے رکن ٹام سوازی کے اعزاز میں ایک پروقار میٹ اینڈ گریٹ تقریب اور کمیونٹی مکالمے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تقریب کمیونٹی کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر اعجاز احمد کی وسیع رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں، سماجی شخصیات اور معزز مہمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب کا مقصد پاکستانی امریکن کمیونٹی اور امریکی سیاسی قیادت کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا، کمیونٹی کو درپیش مسائل اور ترجیحات پر گفتگو کرنا اور پاکستانی نژاد امریکی شہریوں کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں مؤثر شرکت کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر کمیونٹی کے اجتماعی مفادات، سیاسی نمائندگی، پاک امریکہ تعلقات، پاکستان کی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ دعوتی تقریب 70 اولڈ ویسٹبری روڈ، اولڈ ویسٹبری، نیویارک میں شام 7 بجے منعقد ہوئی۔ اس میں لانگ آئی لینڈ، سفک کاؤنٹی، ناساؤ کاؤنٹی، نیویارک اور ٹرائی اسٹیٹ ریجن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی پاکستانی امریکن کمیونٹی کی نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکاء نے امریکی سیاسی اداروں میں پاکستانی امریکن کمیونٹی کی نمائندگی بڑھانے اور منتخب نمائندوں کے ساتھ براہِ راست رابطوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

تقریب میں چوہدری سرور، ڈاکٹر پرویز، ارسل اعجاز، ناہید بھٹی، بدر بھٹی، مرزا خاور بیگ، دانش ملک، آصف چوہدری، محمود غزنوی، اسد چوہدری، راحیلہ اسلم، پرویز اسلم، عامر رسول باجوہ، چوہدری تنویر، چوہدری اشرف، شہباز خان اور بشیر قمر سمیت متعدد کمیونٹی رہنماؤں اور معزز شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس مین ٹام سوازی نے پاکستانی امریکن کمیونٹی کو ایک فعال، باصلاحیت اور متحرک کمیونٹی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری امریکہ کی سیاسی، معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کی جانب سے کمیونٹی کی ترقی، سیاسی نمائندگی اور پاکستانی امریکن شہریوں کے مسائل کو امریکی سیاسی قیادت تک پہنچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کے مطابق، کمیونٹی اور منتخب نمائندوں کے درمیان براہِ راست رابطہ عوامی مسائل کو سمجھنے اور ان پر بامقصد گفتگو کے لیے اہمیت رکھتا تھا۔

ٹام سوازی نے پاکستان کے اپنے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان، وہاں کے عوام اور ملک کے سیاسی و معاشی حالات سے واقفیت رکھتے تھے۔ انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

تقریب کے دوران پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور باہمی مفادات سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ کانگریس مین ٹام سوازی نے دونوں ممالک کے درمیان روابط کو برقرار رکھنے اور تعاون کو طویل مدتی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ پاکستان کی داخلی سیاسی صورتحال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی سیاست پر زیادہ تفصیل سے بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم وہ ملک کی سیاسی قیادت کو درپیش مشکلات اور مختلف ادوار میں ہونے والی گرفتاریوں سے آگاہ تھے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو وقتی حالات تک محدود رکھنے کے بجائے مستقل بنیادوں پر استوار کیا جانا چاہیے، تاکہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات کے حامل معاملات پر تعاون جاری رکھ سکیں۔ شرکاء نے بھی اس موقع پر پاک امریکہ تعلقات، پاکستانی امریکن شہریوں کے کردار اور امریکی سیاسی اداروں میں کمیونٹی کی مؤثر نمائندگی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تقریب میں فلسطین کی صورتحال، بالخصوص غزہ اور دیگر متاثرہ فلسطینی علاقوں کی تعمیرِ نو کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ کانگریس مین ٹام سوازی نے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بمباری سے متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے ساتھ ساتھ متاثرہ آبادی کی ضروریات کو پورا کرنا بھی ضروری تھا۔ ان کے مطابق، تعمیرِ نو اور بحالی کے مؤثر اقدامات سے متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے میں مدد مل سکتی تھی۔ اس گفتگو میں انسانی ضروریات، ترقیاتی منصوبوں اور متاثرہ آبادی کی بحالی جیسے معاملات کو اہمیت دی گئی۔

تقریب کا ایک اہم حصہ سوال و جواب کا سیشن تھا، جس میں شرکاء کو کانگریس مین ٹام سوازی سے براہِ راست سوالات کرنے اور مختلف امور پر وضاحت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس سیشن کے دوران ڈاکٹر پرویز نے متعدد اہم معاملات پر سوالات کیے، جن کے ٹام سوازی نے جوابات دیے۔ گفتگو میں پاک امریکہ تعلقات، پاکستانی امریکن کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی، امریکی سیاست، کانگریس کے امور اور دیگر اہم معاملات زیرِ بحث آئے۔ اس نشست نے رسمی تقاریر کے بجائے دوطرفہ مکالمے کو فروغ دیا اور کمیونٹی رہنماؤں کو اپنے تحفظات اور ترجیحات براہِ راست پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ شرکاء نے اس امر کو اہم قرار دیا کہ کمیونٹی کے مسائل اور ضروریات سے منتخب نمائندوں کو آگاہ رکھنے کے لیے اس نوعیت کی ملاقاتوں اور مکالمے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

کانگریس مین ٹام سوازی نے اپنے خطاب میں 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی امریکن کمیونٹی سے اپنی حمایت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیونٹی کے ارکان انتخابی عمل میں حصہ لیتے ہوئے ان کا ساتھ دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں انتخابات میں شکست دلانے کے لیے دس ملین ڈالر خرچ کیے جا رہے تھے۔ ٹام سوازی نے اپنے حامیوں کی حمایت کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستانی امریکن کمیونٹی سمیت اپنے حمایتی حلقوں کے تعاون کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کمیونٹی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی امریکن شہریوں کی حمایت ان کے لیے اہمیت رکھتی تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کمیونٹی آئندہ انتخابات میں ان کا ساتھ دے۔ انتخابات کے حوالے سے ہونے والی اس گفتگو نے تقریب میں کمیونٹی کی سیاسی شرکت، انتخابی عمل میں شہریوں کے کردار اور امریکی سیاست میں پاکستانی امریکن شہریوں کی نمائندگی کے موضوعات کو نمایاں کیا۔

ڈاکٹر اعجاز احمد کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی اس تقریب نے کمیونٹی رہنماؤں اور امریکی سیاسی قیادت کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع فراہم کیا۔ دعوتی نوعیت کے اس اجتماع میں شرکاء نے غیر رسمی ماحول میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اے پی پی اے سی کے زیرِ اہتمام اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستانی امریکن کمیونٹی کو امریکی سیاسی اداروں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ جوڑنا، کمیونٹی کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع کو وسعت دینا تھا۔ تقریب میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی امریکن شہری امریکہ کی سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی میں اپنا کردار مزید مؤثر بنا سکتے تھے۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ کمیونٹی تنظیمیں، مقامی رہنما اور منتخب نمائندے باہمی رابطوں کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مسائل پر مسلسل گفتگو کریں۔

تقریب کے اختتام پر کمیونٹی کے اجتماعی مفادات، سیاسی نمائندگی اور امریکی معاشرے میں پاکستانی نژاد شہریوں کے کردار کے حوالے سے تبادلۂ خیال جاری رہا۔ شرکاء نے کمیونٹی کے مسائل، ضروریات اور ترجیحات کو امریکی منتخب نمائندوں تک پہنچانے اور سیاسی عمل میں مؤثر شرکت کی اہمیت اجاگر کی۔ اس میٹ اینڈ گریٹ تقریب نے پاکستانی امریکن کمیونٹی کے رہنماؤں کو کانگریس مین ٹام سوازی کے ساتھ براہِ راست گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ پاک امریکہ تعلقات، پاکستان کی سیاسی صورتحال، فلسطین کی تعمیرِ نو اور آئندہ انتخابات سمیت مختلف موضوعات پر ہونے والی گفتگو نے اس اجتماع کو کمیونٹی روابط اور سیاسی مکالمے کے حوالے سے اہمیت دی۔ اے پی پی اے سی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی اس تقریب میں کمیونٹی رہنماؤں نے باہمی روابط کو مزید مستحکم بنانے، پاکستانی امریکن شہریوں کی سیاسی و سماجی شرکت بڑھانے اور امریکی سیاسی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *