نیویارک:( منظور حسین سے ) نیویارک سٹی کے مئیر زوہران ممدانی نے معروف سول رائٹس اور الیکشن اٹارنی، پاکستانی نژاد امریکی علی نجمی کو ازسرِ نو فعال کی گئی میئرز ایڈوائزری کمیٹی آن دی جوڈیشری کا چیئرمین مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس موقع پر مئیر ممدانی نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے، جس کا مقصد نیویارک سٹی میں ججوں کے انتخاب کے عمل کو زیادہ شفاف، جامع اور عام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔ مئیر زوہران ممدانی نے کہا کہ اگرچہ عدالتی نظام جمہوریت میں ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے، تاہم یہ اکثر عوام کی نظروں سے اوجھل اور پیچیدہ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ججوں کے انتخاب کا عمل شفاف ہو، قانون سب پر یکساں طور پر لاگو ہو اور عدالتی نظام شہر کی متنوع آبادی کی حقیقی عکاسی کرے۔ مئیر کے مطابق علی نجمی اس ذمہ داری کے لیے سب سے موزوں شخصیت ہیں، جو دہائیوں سے عدالتوں میں جس عزم اور وابستگی کے ساتھ خدمات انجام دیتے آئے ہیں، وہی جذبہ اب اس نئی ذمہ داری میں بھی نظر آئے گا۔ اپنی تقرری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے علی نجمی نے کہا کہ میئرز ایڈوائزری کمیٹی آن دی جوڈیشری کی قیادت کرنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منصفانہ اور مساوی قانونی نظام کا انحصار اہل اور دیانتدار ججوں پر ہوتا ہے، اور وہ اس عزم کے ساتھ کام کریں گے کہ ججوں کے انتخاب کا عمل زیادہ شفاف اور جامع ہو تاکہ نیویارک کے 85 لاکھ شہری خود کو عدالتی بنچ پر نمائندگی میں دیکھ سکیں۔ ممدانی انتظامیہ کے تحت اس کمیٹی کو عدالتی تقرریوں کے عمل میں شفافیت بڑھانے اور عوامی شمولیت کو فروغ دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ نئے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، کمیٹی قانونی برادری کے وسیع حلقوں سے رابطہ کرے گی، جن میں پبلک ڈیفینڈرز، فیملی کورٹ میں والدین اور بچوں کی نمائندگی کرنے والے وکلا، اور کم آمدنی والے افراد کے لیے قانونی خدمات فراہم کرنے والے ادارے شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ عدالتی امیدواروں سے متعلق آبادیاتی اعداد و شمار باقاعدگی سے شائع کیے جائیں گے اور ایک قابلِ تلاش ڈیٹا بیس بھی قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے شہری آئندہ عدالتی تقرریوں پر نظر رکھ سکیں گے۔ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کمیٹی کے اراکین کی مدت بھی دو سال سے بڑھا کر چار سال کر دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی فیملی اور سول کورٹس کے ججوں کی تقرری اور کریمنل کورٹس کے لیے عبوری ججوں کی نامزدگی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ دی برونکس ڈیفینڈرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوول او اسکاٹ نے ممدانی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پبلک ڈیفینڈرز عدالتی نظام کے مسائل کو زمینی سطح پر دیکھتے ہیں اور ان کی رائے ججوں کے انتخاب میں شامل ہونا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کے انسانی اثرات کو سمجھنے والا بنچ ہی حقیقی انصاف کو یقینی بنا سکتا ہے۔ لیگل ایڈ سوسائٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹوائیلا کارٹر نے بھی علی نجمی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک تجربہ کار ڈیفنس اور سول رائٹس اٹارنی کے طور پر علی نجمی عدالتی انتخاب کے عمل میں انصاف، شفافیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا مضبوط نقطۂ نظر لائیں گے، جو نیویارک کے عدالتی نظام کے لیے نہایت اہم ہے۔

نیویارک کے معروف فوجداری وکیل علی نجمی: انصاف، قانون اور عوامی خدمت کی ایک نمایاں مثال
علی نجمی، جو نیویارک میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے، آج ڈاؤن ٹاؤن مین ہیٹن میں قائم اپنی ممتاز قانونی پریکٹس کے ذریعے انصاف کی فراہمی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب فوجداری وکیل کے طور پر جانے جاتے ہیں بلکہ عوامی خدمت، شہری حقوق اور قانون کی بالادستی کے مضبوط حامی بھی ہیں۔ علی نجمی نے اپنے قانونی کیریئر کا آغاز 2009 میں کیا جب انہیں نیویارک سٹی کونسل میں ایک منتخب کونسل ممبر کے لیے لیجسلیٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔ اس دور میں انہوں نے شہری حقوق اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے متعلق اہم قانون سازی کی تیاری میں فعال کردار ادا کیا۔ ان کی یہ خدمات نیویارک کے عوام کے لیے دیرپا اثرات کی حامل ثابت ہوئیں۔ 2011 میں علی نجمی نے نجی وکالت کی جانب رخ کیا اور فوجداری قانون کے شعبے میں اپنی پریکٹس قائم کی۔ اس کے بعد سے وہ نیویارک سٹی میں انتہائی سنگین جرائم کے مقدمات میں ملوث متعدد افراد کا کامیاب دفاع کر چکے ہیں۔ ان کے مقدمات میں اعلیٰ سطح کے فیلونی اور میسڈیمینر شامل ہیں، جہاں انہوں نے مؤکلین کو نہ صرف قانونی تحفظ فراہم کیا بلکہ کئی افراد کو زندگی کا دوسرا موقع بھی دلایا۔ اپنی غیرمعمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عدالتی کارکردگی کے اعتراف میں علی نجمی کو دی نیشنل ٹرائل لائرز کی جانب سے “ٹاپ 40 انڈر 40 کریمنل ڈیفنس اٹارنیز” میں شامل کیا گیا، جو ان کے کیریئر کی ایک اہم کامیابی سمجھی جاتی ہے۔

علی نجمی نیویارک اسٹیٹ اور مقامی وفاقی ضلعی عدالتوں میں وکالت کے مجاز ہیں۔ وہ یونین پلس لیگل سروس کے ساتھ بھی رجسٹرڈ ہیں، جہاں وہ نیویارک کی ٹریڈ یونینز سے وابستہ محنت کش مردوں اور خواتین کو باقاعدہ قانونی نمائندگی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ متعدد معتبر قانونی تنظیموں کے رکن ہیں جن میں نیویارک اسٹیٹ ایسوسی ایشن آف کریمنل ڈیفنس لائرز، نیویارک سٹی بار ایسوسی ایشن، نیویارک کاؤنٹی بار ایسوسی ایشن، کوئنز کاؤنٹی بار ایسوسی ایشن، ساؤتھ ایشین بار ایسوسی ایشن آف نیویارک، اور ساؤتھ ایشین و انڈو-کیریبین بار ایسوسی ایشن آف کوئنز شامل ہیں۔

تعلیمی اعتبار سے، علی نجمی اوبرلن کالج اور سٹی یونیورسٹی آف نیویارک اسکول آف لا کے فارغ التحصیل ہیں۔ ان کی زندگی اور کیریئر اس بات کی روشن مثال ہے کہ لگن، محنت اور عوامی خدمت کے جذبے سے قانون کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ علی نجمی آج بھی نیویارک کے عوام کے لیے انصاف کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور قانون کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہیں۔

Mayor Mamdani Appoints Civil Rights Attorney Ali Najmi to Lead Judicial Advisory Committee, Signs Order to Expand Transparency
