پاکستانی میڈیکل سٹوڈنٹ نافیہ اکرام پر تیزاب پھینکنے والا شخص5 سال بعد گرفتار
نیویارک(دنیا نیوز)نیویارک کے نواح میں واقع لانگ آئی لینڈ کے علاقے المانٹ میں آج سے پانچ سال قبل 2021میں پاکستانی امریکن میڈیکل سٹوڈنٹ نافیہ اکرام پر تیزاب پھینکنے والا شخص بالآخر گرفتار کر لیاگیا۔ یاد رہے کہ نافیہ اکرام، اپنے گھر واپس آرہی تھی کہ نا معلوم شخص نے اس پر تیزاب پھینکا جس سے اس کا چہرہ بری طرح جھلس گیا اور وہ شدید زخمی ہو گئی اس ہولناک واقعہ کو سی سی ٹی وی کیمرے نے محفوظ کر لیا تھا جس میں خاتون پر تیزاب پھینکتے ہوئے تو دیکھا جا سکتا ہے لیکن ملزم کی پہچان نہیں ہو رہی تھی۔ نافیہ اکرام کے والد شیخ اکرام نے بھی دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے تیزاب پھینکنے کے گھناؤنے جرم میں ملوث ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کر دی۔ اب قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے پانچ سال کی مسلسل محنت کے بعد اس خوفناک واقعہ میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی فی الحال شناخت جاری نہیں کی گئی تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ضروری قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے کے بعد کیس کی مکمل تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔ ایک خصوصی گفتگو میں نافیہ کے والد، شیخ اکرام، نے کیس سے متعلق نئی تفصیلات شیئر کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار کیا گیا ملزم ان کی بیٹی یا خاندان سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں رکھتا۔ “میری بیٹی نافیہ اکرام ٹیرل کیمبل کو نہیں جانتی، اور نہ ہی اس کا ہمارے خاندان سے کوئی تعلق ہے،” شیخ اکرام نے کہا تقریباً ایک سال قبل ملزم کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی تھی، لیکن گرفتاری کے عمل میں خاصا وقت لگا۔اگرچہ تفتیشی حکام نے حملے کے واضح محرک کو عوامی طور پر ظاہر نہیں کیا، تاہم یہ گرفتاری اس کیس میں ایک اہم پیش رفت ہے جس نے خاندان اور کمیونٹی کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ اب یہ مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ اگر ٹیرل کیمبل جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اسے 25 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اکرام خاندان انصاف کے حصول کے لیے پُرعزم ہے اور امید کرتا ہے کہ قانونی کارروائی کے ذریعے برسوں کی تکلیف اور غیر یقینی صورتحال کے بعد انہیں بالآخر سکون ملے گا۔

