نیویارک میں مہنگی آٹو انشورنس کے خلاف بڑا احتجاج”
گورنرکیتھی ہوکل کے اصلاحاتی منصوبے کی فوری منظوری کا مطالبہ
(رپورٹ: منظور حسین)
نیویارک ریاست میں بڑھتی ہوئی آٹو انشورنس کی قیمتوں کے خلاف مذہبی، سماجی اور کمیونٹی رہنماؤں نے ایک مضبوط آواز بلند کرتے ہوئے قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گورنر گورنرکیتھی ہوکل کے پیش کردہ اصلاحاتی منصوبے کو فوری طور پر حتمی ریاستی بجٹ کا حصہ بنائیں تاکہ عوام کو فوری اور مؤثر مالی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ریاستی دارالحکومت کے تاریخی مقام ملین ڈالر کی سیڑھیاں پر منعقدہ اس اہم اجتماع میں مقررین نے واضح کیا کہ آٹو انشورنس کی بڑھتی ہوئی لاگت نے عام شہریوں، خصوصاً محنت کش طبقے، کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ رہنماؤں کے مطابق نیویارک میں ایک شہری سالانہ اوسطاً تقریباً 4 ہزار ڈالر آٹو انشورنس پر خرچ کر رہا ہے، جو قومی اوسط سے تقریباً دوگنا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ رقم 5 سے 7 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اجلاس کے دوران گورنر کے اس منصوبے کو سراہا گیا جس میں “ایکسس پرافٹ لا” کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ انشورنس کمپنیوں کے اضافی منافع کو صارفین تک منتقل کیا جا سکے۔ مقررین نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ نظام میں شفافیت بھی بڑھے گی۔ مقررین نے ایک حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 86 فیصد نیویارک کے شہری ان اصلاحات کے حق میں ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوام مہنگی انشورنس کے بوجھ سے نجات چاہتے ہیں۔ انہوں نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ دھوکہ دہی اور نظام کے غلط استعمال کے خلاف سخت اقدامات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ اصلاحات سے حاصل ہونے والی بچت براہِ راست ڈرائیورز تک پہنچے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلیک انسٹی ٹیوٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹوولیکی رابرٹسن نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور اس پر سالانہ ہزاروں ڈالر آٹو انشورنس کی مد میں ادا کرنا ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست بھر کے مذہبی اور سماجی رہنما ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ عوام کو فوری ریلیف دیا جائے۔ ریورنڈ ڈاکٹر رابرٹ واٹر مین نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب خاندانوں کو خوراک اور انشورنس کے درمیان انتخاب کرنا پڑے تو یہ ایک سنگین صورتحال ہے، جس کا فوری حل نکالنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک پالیسی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ ریورنڈ جیمز اے لیوس نے کہا کہ گاڑی آج کے دور میں ایک ضرورت بن چکی ہے، جس کے بغیر روزگار، تعلیم اور خاندانی ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آٹو انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات عوام کے دیگر ضروری اخراجات کو متاثر کر رہے ہیں۔ ریورنڈ کونراڈ ٹلرڈ نے کہا کہ 86 فیصد عوامی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں اور قانون سازوں کو فوری عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ناساؤ کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت امینہ ایدوما نے کہا کہ نیویارک کے شہری ایک ایسے نظام کے مستحق ہیں جو ایماندار ڈرائیورز کے لیے منصفانہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت واقعی ریاست کو سستا بنانا چاہتی ہے تو آٹو انشورنس اصلاحات کو بجٹ کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ گورنر گورنرکیتھی ہوکل کے پیش کردہ منصوبے میں انشورنس فراڈ کے خلاف سخت کارروائی، غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لیے ادائیگیوں میں کمی، قانونی نظام میں اصلاحات، اور شرحوں میں شفافیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ محفوظ ڈرائیونگ کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ سستی قیمتوں کے لیے شہری نامی اتحاد، جو شہریوں، سماجی تنظیموں اور کارکنوں پر مشتمل ہے، اس مہم میں پیش پیش ہے اور آٹو انشورنس کے نظام کو سستا اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ اصلاحات منظور ہو جاتی ہیں تو نہ صرف عوام کو مالی ریلیف ملے گا بلکہ نیویارک میں معاشی استحکام کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔

