سعودی عرب: امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملہ، دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے کسی بھی حملے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ریاض/تہران :مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد پورے خطے میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ دشمن کی جانب سے مملکت پر منظم ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ریاض اور الخرج کے علاقوں پر مجموعی طور پر 8 ڈرون حملے کیے گئے۔ دو ڈرونز امریکی سفارت خانے کی عمارت سے ٹکرائے جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی اور عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔ سعودی ایئر ڈیفنس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 8 میں سے بیشتر ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جس سے جانی نقصان نہیں ہوا۔سعودی عرب میں ہونے والی اس بڑی کارروائی کے بعد ایران نے فوری طور پر اپنا موقف جاری کیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے کسی بھی حملے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تہران کے مطابق، سعودی عرب کی معاشی تنصیبات ان کے جنگی اہداف کا حصہ نہیں ہیں، اور ایران اس معاملے میں ذمہ دار نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *