تاکااِچی ٹرمپ سربراہی ملاقات میں ایران اور معیشت پر تبادلہ خیال

جاپانی وزیراعظم تاکااِچی سانائے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان واشنگٹن میں سربراہی ملاقات ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل اور امریکہ میں جاپانی سرمایہ کاری سمیت کئی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اکتوبر میں ٹوکیو میں دونوں رہنماؤں کے گزشتہ اجلاس کے بعد یہ ان کی دوسری رو برو ملاقات تھی۔ دونوں رہنماؤں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک بات چیت کی۔ ملاقات کے بعد تاکااِچی نے کہا کہ انہوں نے کئی شعبوں میں تعاون کی تصدیق نو کی ہے۔ جاپانی وزیراعظم نے کہا، “میں نے کھل کر جاپان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا، جس میں صورت حال کی کشیدگی کو جلد از جلد کم کرنے کی ضرورت بھی شامل تھی۔ ہم نے تصدیق کی کہ جاپان اور امریکہ آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور توانائی کی مستحکم فراہمی کو یقینی بنانے سمیت مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے قریبی رابطے جاری رکھیں گے۔” تاکااِچی نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ جہاں ایسے اقدامات ہیں جو جاپان اپنے ملکی قانون کے دائرے میں رہ کر کر سکتا ہے تو وہیں ایسے بھی جن کی جاپانی قانون اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک نے امریکہ میں تیل کی پیداوار بڑھانے میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الاسکا میں پیداوار بڑھانے کے منصوبے ہیں۔ دونوں فریقوں نے گزشتہ سال کیے گئے معاہدے کے تحت سرمایہ کاری کے دوسرے مرحلے کا بھی اعلان کیا۔ معاہدے کے تحت جاپان امریکی معیشت میں 550 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ تین مجوزہ منصوبوں کی مالیت 73 بلین ڈالر تک ہے۔ یہ منصوبے ٹینیسی اور الاباما میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز اور پنسلوانیا اور ٹیکساس میں قدرتی گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی تعمیر سے متعلق ہیں۔ ایک مشترکہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کے لیے اقتصادی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *