امریکہ کا یوٹرن: ایران پر حملہ مؤخر، آبنائے ہرمز کھولنے کی مہلت میں 5 دن کی توسیع

دبئی (ویب ڈیسک ) — ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ حملے کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہا ہے، جبکہ ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عالمی جہاز رانی کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان “بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت” ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں جنگ کے مکمل خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات پورے ہفتے جاری رہیں گے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے پاور پلانٹس پر حملے کی دھمکی کو وقتی طور پر معطل کیا گیا ہے، تاہم اس کا انحصار جاری مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ٹرمپ کے اعلان کے فوراً بعد ایک گرافک نشر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ: “ایران کی سخت وارننگ کے بعد امریکی صدر پسپائی اختیار کر گئے ہیں۔” تاہم ایران کے سرکاری اخبار نے وزارتِ خارجہ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کی گئی ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ ترکی ماضی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ادھر متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام پیر کی دوپہر ایران کی جانب سے آنے والے نئے حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ قبل ازیں ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے اس کے پاور اسٹیشنز کو نشانہ بنایا تو وہ مشرق وسطیٰ بھر میں بجلی گھروں پر حملے کرے گا اور خلیج فارس میں بارودی سرنگیں بچھا دے گا۔ یہ جنگ، جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، کئی بڑے اور خطرناک موڑ لے چکی ہے، جن میں ایران کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکت، اہم گیس فیلڈ پر بمباری، اور خلیجی ممالک میں تیل و گیس تنصیبات اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے شامل ہیں۔ اس تنازع میں اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور دنیا کی مصروف ترین فضائی گزرگاہیں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی ڈیڈ لائن اور ایران کی جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے خطے میں کشیدگی کو ایک نئی اور خطرناک سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *